جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور ملازمین پر تشدد تعلیم دشمن عمل ہے، این ڈی ایم

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے جاری کردہ بیان میں صوبے کے اعلی تعلیمی ادارے بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسرز اور ملازمین پر پولیس تشدد کے شرمناک اور تعلیم دشمن عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس آفیسروں کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے اعلی تعلیمی ادارے اور مادرعلمی کے تمام پروفیسرز اور ملازمین گزشتہ ایک ماہ سے تنخواہوں، پنشنز کی بروقت ادائیگی اور دیگر جائز و برحق مطالبات کی حل کیلئے جمہوری احتجاج کررہے ہیں اور اس برحق مطالبات کو تمام جمہوری و علمی حلقوں کی سیاسی و اخلاقی حمایت حاصل ہیں کیونکہ حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ یونیورسٹی کے پروفیسرز اور دیگر ملازمین کو بروقت تنخواہیں ادا نہیں کررہے اور اسی طرح دیگر برحق مطالبات کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے ایسی صورتحال میں جمہوری احتجاج ان کا حق اور مجبوری بن چکا ہے لیکن یونیورسٹی انظامیہ اور حکومتی فورسز نے گزشتہ روز یونیورسٹی کے مرد و خواتین پروفیسرز اور ملازمین پر لاٹھی چارج اور تشدد کا شرمناک اور تعلیم دشمن عمل کرکے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ ریاست اور حکومت کی پالیسی تعلیم دشمنی پر مبنی ہے جس کیلئے ریاستی طاقت کے غلط استعمال، تشدد اور یونیورسٹیوں کی خودمختار علمی حیثیت اور اس کی پالیسیوں اور فیصلوں میں طلبا و پروفیسرز اور علمی حلقوں کی نمائندگی ختم کرکے علمی اداروں کو آمرانہ طرز پر چلانے اور ایف سی و دیگر فورسز کا آماجگاہ بنائے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ پروفیسرز و ملازمین اور طلبا کے جمہوری آوازوں کو ریاستی طاقت کے ذریعے خاموش کرنے کی ناکام کوششیں بار بار کی جارہی ہے۔بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یونیورسٹی معاملات کو سنجیدگی سے لیں اور پروفیسرز و ملازمین کیخلاف طاقت کے استعمال اور تشدد کے بجائے تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے ساتھ ساتھ دیگر برحق مطالبات کو تسلیم کرے اور یونیورسٹی ایکٹ میں کیے گئیغیر جمہوری اور علم دشمن ترامیم واپس لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں