پی ٹی آئی رہنما اور کارکن وڈیو وائرل کرنے پر صحافیوں کیخلاف پھٹ پڑے

اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان کی معروف اور عوامی حلقوں میں متنازع سمجھی جانے والی صحافی اور اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے پچھلے ہفتے کراچی میں منعقدہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جلسے میں صرف 20 سے 25 ہزار افراد نے شرکت کی۔ حالانکہ ڈرون فوٹیج میں واقعتا بہت کم افراد نظر آ رہے تھے۔ غریدہ کی جانب سے ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہی پی ٹی آئی رہنما اور کارکن آپے سے باہر ہوتے ہوئے اخلاقیات کی تمام حدود کا لانگ گئے۔ اب پچھلے دنوں لاہور میں پی ٹی آئی کا جلسہ ہوا تو وہاں غریدہ فاروقی کے لیے اخلاق باختہ جملوں سے بھرے پلے کارڈز کی نمائش کی گئی۔ پی ٹی آئی کارکنان نے غریدہ فاروقی کو دبے الفاظ میں زیادتی کی دھمکیاں دیں۔ ان پوسٹرز کو پی ٹی آئی کے حمایتی بطور مزاح شیئر کر رہے ہیں، لیکن غیرت مند پاکستانی ان فحش اور بیہودہ الفاظ کی مذمت کر رہے ہیں۔ صرف غریدہ ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے حوالے سے بھی پی ٹی آئی کارکنان نے پلے کارڈز پر انتہائی غلیظ الفاظ کا استعمال کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ جمیلی کاکڑ کا کہنا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے، لاہور کے ایک جلسے میں غریدہ فاروقی کے خلاف لگنے والے بینرز شرمناک ہیں اور پی ٹی آئی قیادت کی اکثریت کی پتھریلی خاموشی اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم اپنے معاشرے میں خواتین کے احترام کی اپنی شناخت کو کھونا نہیں چاہتے۔ سوشل میڈیا صارف عنایہ خان نے لکھا کہ عمران خان یہ نظریہ بیچ رہے ہیں، عورتوں کو صریح جنس پرستی اور بدتمیزی کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب کچھ ٹوئٹر صارفین نے مسلم لیگ (ن) کے محمد زبیر کی لیک ویڈیو کا زکر کیا تو ایک صارف نے اخبار کا پرانا تراشہ بھی شیئر کیا جس میں بینظیر بھٹو کی تصاویر کا ذکر تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں