کچھی فراہمی آب منصوبہ ناکام، شہری بوند بوند کو ترس گئے
بختیارآباد (انتخاب نیوز) کچھی واٹر سپلائی اسکیم عوام کے لئے عذاب بن گئی، شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے، محکمہ پی ایچ ای عملے کی گٹھ جوڑ کی وجہ سے محکمہ پی ایچ ای کو ماہانہ لاکھوں روپے کا ٹیکہ لگایا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کچھی واٹر سپلائی اسکیم محکمہ پی ایچ ای کے آفیسران کے لئے سونے کی چڑیا بن گئی۔ ماہ صیام میں شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ پی ایچ کے اعلی آفیسران "سب انجینئر اور پٹرولر”کے سامنے بے بس دکھاتی دیتے ہیں۔ ایکسین کاظم لونی، سب انجینئر عمران اور پٹرولر قاسم کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے محکمہ پی ایچ ای کو ماہانہ لاکھوں روپے کا چونا لگایا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایکسین کی سربراہی میں ایک جانب سب انجینئر اور پٹرولر مین پائپ کو پنچر کرکے ناجائز کنیکشن لگا کر ماہانہ لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں تو دوسری جانب یہی عملہ کچھی واٹر سپلائی کے مین پائپ کو آئے روز توڑ دیتے ہیں اور ٹھیکیدار کی ملی بھگت سے محکمہ پی ایچ ای سے ماہانہ لاکھوں روپے بٹورتے ہیں۔ اس پر ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ایکسین کچھی واٹر سپلائی اسکیم کاظم لونی سے میڈیا کے نمائندوں نے اس گٹھ جوڑ کے بارے میں موقف جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے کوئی تسلی بخش جواب دینے کی بجائے یہ کہہ دیا کہ آپ کو جس سے شکایت کرنی ہے کر لیں میں کسی سے نہیں ڈرتا انہوں نے مزید دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بختیار آباد کی عوام کو پانی فراہم نہیں کیا جائے گا۔ بختیار آباد اور بھاگ ناڑی کی مظلوم عوام نے وزیر اعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، صوبائی وزیر پی ایچ ای رشید بلوچ، سیکریٹری پی ایچ ای صالح بلوچ اور بلوچستان ہائی کورٹ سے کچھی واٹر سپلائی اسکیم کے آفیسران، عملے اور ٹھیکیدار کے گٹھ جوڑ سے محکمہ پی ایچ ای کو ماہانہ لاکھوں روپے کا ٹیکہ لگانے، مین پائپ کو پنچر کرکے پانی بیچنے والے عملے کے خلاف سخت کارروائی کرنے سمیت بختیار آباد اور بھاگ ناڑی کی مظلوم عوام کو پینے کا پانی فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔


