کراچی خود کش حملہ قابل مذمت ‘ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس نہج تک کیوں پہنچے ‘ بی این پی

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کراچی خود کش حملے مےں انسانی جانوں کا ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انسانی جانوں کا ضیاع میں کسی بھی مذہب ‘ فرقے کا تعلق ہے بحیثیت انسان ایسے واقعات کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایسے حالات اور اس نہج تک کیسے پہنچے یقینا بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں کہ اس نہج تک پہنچنے میں کون سے عوامل کارفرما ہیں یقینا ہم اس نتیجے میں پہنچتے ہیں کہ ماضی کے حکمرانوں نے بلوچ اور بلوچستان کے معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ جملہ مسائل کو حل کرنے کی حکمرانوں نے کوشش کی بلکہ لفاظی حد تک معاملات کو دیکھا گیا اور بلند و بالا دعوے ہی کئے گئے عملی طور پر بلوچ مسئلے کے حل کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھائے گئے سابقہ حکومت کے ساتھ بی این پی اتحادی تھی تو اکثر انہیں کہتے تھے کہ بلوچستان کے معاملات کو افہام و فہم ‘ گفت و شنید ‘ سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کریں جتنے بھی اسٹیک ہولڈرز ہیں انہیں مذاکرات پر آمدہ اور بلوچستان کے مسئلے کو سمجھا جائے مگر سابق حکومت نے ساڑھے تین سال صرف اپوزیشن اکابرین کو گلم گلوچ اور ایسا کلچر متعارف کروا گئے جس سے یہ بات بھی واضح کر گئے کہ وہ کسی بھی طرح سنجیدہ نہیں بی این پی قومی جمہوری جماعت ہے اپنی سیاسی بساط کے مطابق ہماری کوشش رہی ہے کہ ہم اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کی توجہ بلوچستان کی جانب مبذول کرائیں تاکہ معاملات کو بہتری کی جانب گامزن کیا جائے لیکن افسوس ہے کہ جتنی بھی حکومتیں آئیں حتیٰ کہ عمران خان حکومت نے بھی بلوچستان کے اہم مسائل کے حل کی باتوں تک یقین دہانی کرائی پِارٹی کا مقصد لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت تمام معاملات کے حل طلب مسائل کو اجاگر کرنا ہے جو ہم کر رہے ہیں لیکن آج کراچی میں چینیوں پر خود کش حملہ کیا گیا بی این پی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ انسانی جانوں کا ضیاع قابل افسوس ہے ان تمام واقعات کی ذمہ داری ماضی کے حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے بلوچ مسئلے کے حل کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے مگر کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے جس سے بلوچستان کے حالات بحرانی کیفیت اختیار کرتے گئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں