بلوچستان میں 40 سے زائد صحافیوں نے جانوں کا نذرانہ دیا،ربابہ بلیدی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں لگ بھگ 40 سے زائد صحافیوں نے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، عوامی خدمات کے صلے میں میڈیا کی ہر ممکن معاونت ضروری ہے اس ضمن میں نیوز میڈیا کی طویل مدتی معاشی ضروریات سے متعلق پالیسی بنانا ضروری ہے۔ تاکہ میڈیا انڈسٹری کو معاشی مسائل سے نکال کر اس شعبے سے وابستہ لاکھوں میڈیا ورکرز کا معاشی استحصال روکا جاسکے، عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ دنیا بھر میں اب بھی لاکھوں افراد ایسے ہیں جنہیں آزادی معلومات تک رسائی حاصل نہیں ہے، جس کی وجہ سے صحت عامہ، انسانی حقوق، جمہوریت اور پائیدار ترقی کے اہداف متاثر ہورہے ہیں، انسانی حقوق کی عالمی قرارداد کے آرٹیکل 19میں کہا گیا ہے کہ آزادی اظہار رائے بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے دنیا بھر نے دیکھا کہ گزشتہ برسوں کے دوران کوروناوائرس کی عالمی وبا کے دور میں حقیقی معلومات کی اہمیت بڑھ گئی ایسی کسی بھی ناگہانی عالمی و علاقائی صورتحال میں عوام کا انحصار دنیا بھر کے صحافیوں پر بڑھ جاتا ہے انہوں نے کہا کہ صحافت ایک مقدس پیشے سے بڑھ کر ایک عظیم مشن کا نام ہے،جس حکومت میں اظہار رائے کی آئینی آزادی حاصل نہ ہو اسے جمہوریت نہیں کہاجاسکتا ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ انٹرنیٹ کے دور میں غلط معلومات کے بہاؤ کا تدارک بھی ضروری ہے، جس کے لیے میڈیا سے وابسطہ افراد کا زمہ دار، باشعور اور متعلقہ شعبے میں خواندہ ہونا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان حکومت اور میڈیا میں اچھے مثالی تعلقات قائم ہیں صوبائی حکومت میڈیا سے وابستہ ورکرز کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں ہے میڈیا اکیڈمی کے قیام کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت نے میڈیا ٹاون کے لئے لینڈ لیز آرڈر جاری کرکے کوئٹہ کے صحافیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کردیا ہے اور وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبائی حکومت سے جس قدر ہوسکا صحافیوں کی بہبود کے لئے حقیقی اور قابل عمل اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں