بلوچستان میں خواتین کو زچگی و صحت کی بہتر سہولیات دینا ہوں گی، ڈاکٹر ربابہ بلیدی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال قریب دو لاکھ ستاسی ہزار خواتین دوران حمل اور بچے کی پیدائش کے وقت کی پیچیدگیوں کے سبب لقمہ اجل بن جاتی ہیں دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے جس کی روک تھام کے لئے کثیر الجہتی اور موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی مڈوائفری ڈے کی مناسبت سے اپنے ایک ٹوئٹ میں کیا انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 2.9 ملین نو زائیدہ بچے پیدائش کے بعد پہلے ماہ میں ہی دم توڑ دیتے ہیں وہ بھی ایسی بیماریوں یا پیچیدگیوں کے سبب جن کا سدباب ممکن ہے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بین الاقوامی مڈوائف ڈے ہر سال دائیوں کے کام کو تسلیم کرنے اور نئی ماں اور ان کے نوزائیدہ بچوں کو فراہم کی جانے والی ضروری دیکھ بھال میں دائیوں کے کردار کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے کے لیے منایا جاتا ہے عورت کے حمل سے لے کر ولادت اور پیدائش تک ماں اور بچے کی حفاظت اور ماں کو جذباتی طور پر مضبوط بنانے میں ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ دائی کا بھی اہم کردار ہوتا ہے تیسری دنیا کے ممالک جہاں صحت کی بنیادی سہولیات پوری طرح میسر نہیں ہیں اور طبی عملہ کم ہے وہاں زچگی کے عمل میں خواتین کو بہت خطرات سے دچار ہونا پڑتا ہے ۔ ایسے حالات میں لیڈی ڈاکٹر کی کمی کو ایک دایہ پوری کرتی ہے جو کسی بھی خاندان اور طبی مراکز کے درمیان ایک رابطے کا کام کرتی ہے ۔ دایہ عورتوں کی صحت اور بیماریوں سے آگاہی دلانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو زچگی و صحت عامہ کی بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے مربوط و کثیر الجہتی اقدامات ناگزیر ہیں اور اس ضمن میں آئی ڈی ایس پی اور اس جیسے غیر سرکاری اداروں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے تاکہ اشتراکی اقدامات کو موثر بناکر ماوں کی شرح اموات میں کمی لائی جاسکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں