لاپتہ افراد کا مسئلہ ملک کا سنگین ترین مسئلہ بنتا جارہا ہے، نیشنل پارٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا کہ جبری طور پر لاپتہ افراد کا مسئلہ ملک کا سنگین ترین سیاسی و قومی مسلہ بنتا جارہا ہے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے سبب روز بہ روز اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے لوگ امید لیے بیٹھتے ہیں کہ عید جیسے مقدس دن پر حکمرانوں کے دلوں میں رحم آئے گا اور وہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرائیں گے لیکن بدقسمتی اور ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ عید کے دنوں میں بھی بلوچ سیاسی نوجوان محفوظ نہیں ہیں گزشتہ دنوں عید کے موقع پر مڈل سیکشن کے طالب علم کو مستونگ سے لاپتہ کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ عید کے مقدس دن کو مستونگ سے عرفان بنگلزئی اور ساتویں جماعت کے طالبعلم ساجد ساسولی کو ان کے گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کیا گیا تاحال ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ بیان میں کھاگیاکہ مسائل کا حل نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے میں ہے تو تھانوں اور جیلوں پہ تالا لگا دیئے جائیں کئی سالوں تک لوگوں کو عقوبت خانوں میں رکھنا یا ان کے مسخ شدہ لاشیں پھینکنا ہے تو پھر عدالتوں کی تالا بندی کی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے جسے سیاسی مزاکرات کے زریعے حل کیا جائے آئین و قانون کی پاسداری کرتے ہوئے لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرکے اگر ان پر الزامات ہیں تو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے سماج میں انارکی پھیلانے کے بجائے قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور با معنی مزاکرات کا آغاز کرکے مسائل حل کیئے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں