نواب اکبر بگٹی کو مارے 15 برس گزر گئے، بلوچستان آج تک سنبھالا نہیں گیا، اسد عمر
اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کو کچھ ہوا یا ان کی جان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو پاکستان میں وہ حالات پیدا ہوجائیں گے جنہیں قابو کرنا مشکل ہوجائے گا۔ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنماﺅں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ ان کے دورِ حکومت میں زراعت میں نمو کی شرح 3.5 سے 4 فیصد کے درمیان رہی، پاکستان کی نصف آبادی سے زائد زراعت پر انحصار کرتی ہے، تین سال زراعت کی کارکردگی بہترین رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعت اور سروسز میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا، اس دوران بڑے پیمانے پر معاشی ترقی دیکھنے کو ملی تھی۔ روزگار اور ملازمت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے پہلے 3 سال کے اعداد و شمار کے مطابق 55 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے تھے، اس میں کورونا وائرس کا عرصہ بھی شامل ہے، اس دوران بڑی بڑی معیشتیں بہہ گئی تھیں۔ بند کمروں میں عمران خان کو بھی مشورے دیے گئے۔ سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ آپ کو وہ دن بھی یاد ہوگا جب کہا گیا تھا کہ اکبر بگٹی کو ہم نے مار دیا ہے اور اسے ایسے مارا گیا کہ اس کو خود پتا نہیں چلا، اکبر بگٹی کو مارے ہوئے 15 برس گزر گئے ہیں اور بلوچستان آج تک سنبھالا نہیں گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ باتیں بند کمروں میں بہت اچھی لگتی ہیں جو طاقت کے نشے میں ہوتے ہیں وہ اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں، نواز شریف گوجرانوالہ سے نکل رہے تھے اور مولانا فضل الرحمٰن آرہے تھے، دھرنے دینے تو اسی قسم کے مشورے عمران خان کو بھی دیے جاتے تھے، لیکن عمران خان کا ہر بار ان کو ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ یہ ان کا آئینی حق ہے اس میں پریشانی کس بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام فیصلہ کرچکے ہیں، چاہے آپ حلیم عادل شیخ کے گھر میں ایک بار چھاپہ ماریں یا دو بار اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا، لوگ اب گھر بیٹھنے والے نہیں ہے، پاکستان کے عوام کا فیصلہ پورے پاکستان میں نظر آرہا ہے۔


