روس کا ہائپرسونک میزائل کا کامیاب تجربہ
روسی افواج نے اپنے زرکون ہائپرسونک کروز میزائل کے تازہ ترین کامیاب تجربے کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب روس نے یوکرین کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے۔میڈیا میں شائع خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق وزارت دفاع نے کہا کہ میزائل کو بحیرہ بیرنٹس میں تعینات ایڈمرل گورشکوف جہاز سے داغا گیا اور اس نے آرکٹک میں بحیرہ وائٹ میں ایک ہزار کلومیٹر (625 میل) دور واقع ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔وزارت دفاع نے مزید کہا کہ یہ تجربہ نئے ہتھیاروں کی جانچ کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا ہے۔زرکون کا پہلا باضابطہ تجربہ اکتوبر 2020 میں کیا گیا جسے صدر ولادیمیر پوٹن نے ایک عظیم واقعہ کے طور پر بیان کیا، دیگر تجربے اسی جہاز اور زیر آب آبدوز سے کیے گئے۔ہائپرسونک ہتھیار کا تازہ ترین تجربہ اس وقت ہوا ہے جب روس فروری کے آخر میں یوکرین میں شروع کی گئی اپنی جارحانہ کارروائیاں تیز کررہا ہے۔میزائل کی رفتار آواز کی رفتار سے 5 سے 10 گنا زیادہ ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ رینج تقریبا 1000 کلومیٹر ہے۔مارچ میں روس نے کہا تھا کہ اس نے پہلی بار اپنے ہدف کو انتہائی درست نشانہ والے ’کنزال‘ یا ’ڈیگر‘ ہائپر سونک میزائل کا استعمال کیا ہے۔صدر ولادیمیر پیوٹن نے میزائلوں کو روس کے ہتھیاروں میں نئے ناقابل تسخیر ہتھیاروں کے حصے کے طور پر بیان کیا ہے۔2018 میں صدر ولادمیر پیوٹن کے ذریعے متعارف کرائے گئے نئے جنریشن کے ہتھیاروں کو ان کی رفتار کی وجہ سے میزائل ڈیفنس سسٹم کے ذریعے ٹریک کرنا اور روکنا روایتی ہتھیاروں کے مقابلے زیادہ مشکل ہے تاہم وہ اپنے ہدف کی جانب کم اونچائی پر لانچ کیے جاتے ہیں۔


