پاکستان کا بھارت میں ایٹمی پلانٹ لگانے کے فرانسیسی منصوبے پر اعتراض
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے بھارت میں ایٹمی بجلی گھر لگانے کے فرانسیسی منصوبے پر اپنے اعتراضات کا اعادہ کیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پاکستان نے فرانس کے ساتھ معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ وہ جوہری توانائی پر مبنی چھ ری ایکٹر کونکن کے ساحل پر قائم کرے گا کیونکہ اس سے جنوبی ایشیا میں عدم اعتماد اور سلامتی کے مسائل پیدا ہوں گے۔پاکستانی ردعمل اس وقت سامنے آیا جب فرانسیسی عہدیداروں نے موتھبیلڈ منصوبے کے بارے میں بات چیت شروع کی۔ گزشتہ مہینے فرانس نے مہاراشٹر میں چھ ایٹمی ری ایکٹر بنانے کی حتمی پیشکش کی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اعتراض بلا جواز نہیں ہے خاص طوپر اس تناظر میں کہ بھارت میں یورینیم اور دیگرخام مواد کی چوری کے واقعات بار بار منظر عام پر آئے ہیں جو ایٹمی دہشت گردی کے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ بھارت میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران 200کلو گرام سے زائد جوہری مواد چوری کیا گیا ہے جبکہ 2.5کلو گرام غیر افزودہ یورینیم صرف ایک یا دو ماہ قبل نیپال میں دو بھارتی شہریوں سے پکڑا گیا تھا۔ماہرین نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی پر زور دیا کہ وہ بھارت میں ریڈیو ایکٹیو مٹیریل پر سخت نگرانی کا نظام رکھے اور تمام ممالک کو بھارت کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کرنے سے روک دے۔بھارت میں 1994سے 2021تک ایٹمی مواد کی چوری اور گمشدگی کے کم از کم 20واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ پاکستان میں ایسا کوئی ایک واقعہ نہیں ہوا۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت جوہری ٹیکنالوجی اور مواد کی غیر قانونی تجارت کے ممکنہ مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ماہرین نے فرانس کو خبردار کیا کہ اگر وہ نئی دہلی کے ساتھ معاہدے کو آگے بڑھاتا ہے تو بھارت میں اس طرح کے واقعات ہو سکتے ہیں۔


