اسرائیل کا دورہ کرنے والے پاکستانی صحافی کو نوکری پر بحال کرنے کا مطالبہ

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی سرکاری ٹی وی کے اس اینکر کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا، جس نے حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ مسلم یہودی تعلقات کو فروغ دینے والی غیر سرکاری امریکی تنظیم نے متاثرہ صحافی کی نوکری بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکہ کی غیرسرکاری تنظیم ‘مخیرق اینشی ایٹیو‘ ایک عرصے سے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں اور یہودیوں کے مابین بہتر تعلقات کے لیے سرگرم ہے۔ اس تنظیم نے جمعے کے روز پاکستانی حکومت سے اپیل کی ہے کہ حال ہی میں پاکستانی سرکاری ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کے برطرف کیے جانے والے صحافی کو ان کی ملازمت پر بحال کیا جائے۔ پاکستانی صحافی احمد قریشی نے حال ہی میں امریکی غیرسرکاری تنظیم کے تعاون سے یروشلم کا دورہ کیا تھا، جہاں ان کی ملاقات اسرائیلی صدر اسحاق ہیرزوگ سے بھی ہوئی تھی۔ احمد قریشی اس پندرہ رکنی وفد کا حصہ تھے، جنہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ اس وفد میں زیادہ تر وہ پاکستانی شامل تھے، جو امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔ مسئلہ فلسطین کی وجہ سے اسرائیل اور پاکستان کے مابین ابھی تک سفارتی تعلقات قائم نہیں ہو سکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس دورے کی خبریں منظرعام پر آنے کے فورا بعد ہی اس وفد پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ گزشتہ پیر کے روز پی ٹی وی کی طرف سے ایک ٹویٹ کی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ ‘ذاتی حیثیت میں‘ اسرائیل کا دورہ کرنے والے صحافی قریشی کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ اس دورے کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں میں پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان بھی شامل تھے۔ ان کا دعویٰ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس دورے کا مقصد اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے راہ ہموار کرنا تھا تاہم یہ وفد اس دعوے کو سرے سے ہی مسترد کرتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی نئی حکومت نے بھی بیان جاری کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس وفد کی سربراہ انیلا علی تھیں، جو کہ پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں اور واشنگٹن میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد فقط مسلمانوں اور یہودیوں کے مابین مصالحت کی ایک کوششش تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں