اسرائیل کا اقوام متحدہ کمیشن آف انکوائری کے ساتھ تعاون سے انکار
تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ پٹی پر2021ء میں اسرائیلی حملے کی انکوائری کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے قائم کردہ ایک انسانی حقوق کونسل کی تازہ ترین رپورٹ پراسرائیل کی طرف سے غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق غزہ پٹی پر 2021ء میں اسرائیلی حملے کی انکوائری کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے قائم کردہ ایک انسانی حقوق کونسل نے کہا کہ فلسطینی رہنماء اپنی مستقبل کی ریاست جس علاقے پر قائم کرنا چاہتے ہیں اسرائیل کو اس پر قبضہ کرنے کا سلسلہ روک دینے کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنا چاہیے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف قبضہ کرنے کا سلسلہ روک دینا ہی کافی نہیں ہوگا۔اس میں انسانی حقوق سے فلسطینیوں کے یکساں طور پر استفادہ کو یقینی بنانے کے لیے اضافی اقدامات کرنے کی بھی اپیل کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرنے کے سلسلے کو روک دینا تشدد کے تسلسل کے خاتمے کے لیے ضروری ہے تاہم اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرنے کا سلسلہ روک دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے تفتیش کو پیسے اور توانائی کا ضیاع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ جانبدارانہ اور یک طرفہ ہے۔یہ رپورٹ اسی طرح کی سابقہ، یک طرفہ اور جابندارنہ رپورٹوں کے سلسلے کی کڑی ہے اور اس کا مقصد اسرائیل کو بدنام کرنا ہے۔حماس نے اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا۔


