بھارتی فوج کی اگنی پتھ اسکیم کیخلاف مختلف ریاستوں میں ہنگامے، جلاﺅ گھیراﺅ اور توڑ پھوڑ
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاستوں بہار، راجستھان اور اتر پردیش سے لے کر ہریانہ، مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ تک فوج میں بھرتی سے متعلق اگنی پتھ اسکیم کی مخالفت جاری ہے۔ مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دو دن پہلے اس سکیم کا آغاز کیا تھا۔ اس کے تحت ساڑھے سترہ سال سے اکیس سال تک کے نوجوانوں کو مختصر مدت کے لیے فوج میں خدمات انجام دینے کا موقع ملے گا۔ اس سکیم کے تحت فوج میں بھرتی ہونے والے نوجوانوں کی سروس کی مدت 4 سال ہوگی۔ تاہم کل بھرتیوں میں سے 25 فیصد کو ریگولر سروس میں لیا جائے گا۔ اس سکیم کے اعلان کے بعد سے بہار سے لے کر ہریانہ اور راجستھان سے لے کر اتراکھنڈ تک نوجوانوں کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ ہریانہ کے پلوال ضلع میں احتجاجی نوجوانوں نے ضلع مجسٹریٹ کی رہائش گاہ میں توڑ پھوڑ کی اور سڑک پر کھڑی کچھ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق مظاہرین نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی رہائش گاہ پر پتھراو¿ بھی کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی۔ احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے پلوال میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایک جگہ پر پانچ افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ہریانہ کے انفارمیشن ڈپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ امن وامان کو کنٹرول کرنے کے لیے پلوال ضلع میں موبائل انٹرنیٹ، ڈونگل اور ایس ایم ایس کے ذریعے انٹرنیٹ سروس کو اگلے 24 گھنٹوں کے لیے عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نوجوانوں نے ہریانہ، پلوال، ریواڑی، روہتک اور چرخی دادری سمیت کئی اضلاع میں حکومت کے اس منصوبے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ پلوال میں اس سکیم کے خلاف احتجاج کرنے آئے نوجوان مشتعل ہو گئے جس کی وجہ سے احتجاج پرتشدد ہو گیا۔ مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور رہائش گاہ پر پتھراو¿ کرنے کے علاوہ چار گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ اس کے بعد ہریانہ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ ادھر روہتک میں اگنی پتھ اسکیم کے خلاف احتجاج میں ایک نوجوان کی خودکشی کی بھی خبر ہے۔ فوج میں بحالی کے قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے بکسر میں طلباءکا احتجاج نہ صرف دوسرے دن بھی جاری رہا بلکہ مزید مشتعل ہوگیا۔ صبح سے ہی ترنگا جھنڈا لے کر بکسر اسٹیشن پر پہنچے نوجوانوں نے ریلوے ٹریک کو بلاک کردیا۔ طلباءنے ڈمراو¿ اسٹیشن پر ریلوے ٹریک کو آگ لگا دی۔ ساتھ ہی ٹرینوں پر پتھراو¿ کرکے شیشے بھی توڑ دئیے۔ طلباءنے بکسر شہر کے جیوتی چوک، اسٹیشن روڈ کو بلاک کرکے مرکزی حکومت مردہ باد کے نعرے لگائے۔ جہان آباد میں بھی طلبہ نے جمعرات کی صبح سے ہی ریلوے ٹریک کو بلاک کر دیا۔ مشتعل طلباءنے کہا کہ جب لیڈر کی مدت کار پانچ سال ہے تو ہم چار سال فوج میں کیا کریں گے؟ بہار میں کون سی صنعت ہے جس میں ہم واپس آکر کام کریں گے، ہم پرانا حکمرانی چاہتے ہیں، ہم سے مشورہ کریں۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ درست ہے تو ہم اسے قبول کریں گے۔ سب سے زیادہ آتشزدگی کی ویڈیوز بہار کے ضلع سارن سے سامنے آئی ہیں۔ یہاں مشتعل طلباءنے پلیٹ فارم نمبر دو پر کھڑی مسافر ٹرین کو آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ برونی گونڈیا ایکسپریس کی ایک کوچ کو بھی طلباءنے جلا دیا۔ مشتعل طلباءنے روڈ ویز پر ٹائر جلا کر احتجاج بھی کیا۔


