پسند کی شادی کرنے والےبلوچستان کے جوڑے کا عدالت سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ

کراچی( اسٹاف رپورٹر)بلوچستان سے کراچی میں شادی کرنے والے جوڑے کی جان کو خدشہ، لڑکے کے والد کے خلاف اغواءکا مقدمہ درج،لڑکی کے رشتہ داروں نے لڑکے کے گھر والوں پر تشدد کرنا شروع کر دیا،پولیس کا کردار مشکوک، مقدمہ درج کرنے سے گریز ،برادری کے درمیان خون خرابے کا خدشہ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے لسبیلہ سے کراچی کی عدالت میں آکر شادی کرنے والے جوڑے کی جان کو خدشات لاحق ہو گئے ہیں مینگل برادری سے تعلق رکھنے والے نوبہتا جوڑے کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی پسند کی شادی کراچی کی عدالت میں کی ہے جبکہ نکاح کرنے والی نوبہتا دلہن جویریہ کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی پسند کی شادی کی ہے مجھے کسی نے اغواءنہیں کیا ہے۔نوبہتا دلہن کا کہنا تھا کہ میں اپنے والد اور رشتہ داروں سے درخواست کرتی ہوں کہ شوہر سے راضی ہو جائیں سازشوں کا حصہ نہ بنیں ۔ مجھے کسی نے اغواءنہیں کیا ہے۔میں اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہوں ۔جویریہ کامذیدکہنا تھا کہ میرے ، شوہر اور سسرالوں کےمیرے گھر والے جان کے دشمن بن گئے ہیں ۔میرے سسر کے خلاف اغواءکا مقدمہ درج کیا ہے۔ میرے شوہر کے گھر والوں پر تشدد اور انکو حراساں کیا جا رہا ہے۔ سسرالی گھر چھوڑ کر کہیں اور رہائش پذیر ہیں۔ دولہا کامران کا کہنا تھا کہ پہلے لڑکی کے گھر والوں سے رشتہ مانگا انہوں نے انکار کیا ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں مجبورا عدالت جا کر نکاح کیا ۔ان کا مذید کہنا تھا کہ میں اپنے سسر سے مودبانہ گذارش کرتا ہوں مجھے اپنا بیٹا سمجھیں میں اپنی بیوی کو ہمیشہ خوش رکھوں گا ۔ایس ایچ او بیلا ہمیں تحفظ دینے کے بجائے میرے بہن اور رشتہ داروں پر ہونے والے تشدد پر مقدمہ درج کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔اس حوالے سے منگل کے روز دولہا میر کامران نے سابق وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان سے ملاقات کر کے اپنا نکاح نامہ پیش کیا ہے اور انہیں تمام تفصیلات سے آگاہ کیا اور ایس ایچ او بیلہ کو بھہ اپنا نکاح نامہ ارسال کر دیاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں