قاسم سلیمانی کو اس لیے مارا کہ وہ امریکی عوام کیلئے خطرہ تھا، مائیک پومپیو
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پہلی مرتبہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے بیرون ملک کارروائیوں کے لئے مشہور القدس بریگیڈ کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کی خاطر کیے جانے والے آپریشن کی تفصیلات بیان کی ہیں۔دبئی سے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ”العربیہ“ نیوز چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے پومپیو نے کہا ”کہ امریکی انتظامیہ نے وارننگز سنیں کہ اگر اس نے جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا تو جنگ چھڑ جائے گی۔ یہ وہی دھمکیاں ہیں جو امریکی انتظامیہ نے اس وقت سنی جب اس نے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا فیصلہ کیا۔ ایسی ہی وارننگ ہمیں اس وقت دی گئی تھیں جب امریکا نے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کیا تھا۔‘پومپیو نے کہا ”کہ امریکا نے قاسم سلیمانی کو اس لیے مارا کہ وہ امریکی عوام کے لیے خطرہ تھا۔ سلیمانی 500 امریکیوں کو مارنے کی سازش میں ملوث تھا اور امریکی انتظامیہ اس سازش کو ناکام بنانے میں کامیاب رہی۔“ انہوں نے مزید بتایا ”کہ امریکا نے عراق میں اپنے اثاثوں اور شام میں اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک طویل عرصے سے کام کیا ہے۔سابق امریکی وزیر خارجہ نے نشاندہی کی کہ امریکا القدس بریگیڈ کی نقل وحرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا اور سلیمانی کو ہلاک کے منصوبے پر مسلسل کام کر رہا تھا تاکہ اسے وسائل، اثاثوں اور شہریوں پر حملے کا موقع نہ ملے۔ اس لیے امریکی صدر نے یہ فیصلہ جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ ’سلیمانی کو ختم کرو‘۔ایران اور دنیا کو ہلا کر رکھ دینے والے اس سب سے بڑے واقعے کو دو سال اور چند ماہ گزر چکے ہیں۔ تین جنوری 2020ء کو امریکی حکام نے اعلان کیا تھا کہ امریکا نے ایک خصوصی آپریشن میں بغداد میں قاسلم سلیمانی کو قتل کر دیا ہے۔اس وقت سے لے کر آج تک واقعے کے حقائق کسی حد تک پوشیدہ رہے کیونکہ آپریشن کی نوعیت اور اس دن کیا ہوا اس کے بارے میں کوئی واضح تفصیلات نہیں ہیں۔تاہم نئی معلومات حال ہی میں سامنے آئیں کہ امریکی افواج کی 3 ٹیمیں جو اس وقت عراق میں موجود تھیں، بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر خفیہ مقامات پر ہدف یعنی قاسم سلیمانی کی نقل وحرکت کا انتظار کر رہی تھیں۔


