قبائلی خاتون دروپدی مرمو بی جے پی کی جانب سے صدارتی امیدوار نامزد
نئی دہلی (صباح نیوز)حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھارت کے نئے صدر کے لیے دروپدی مرمو کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ پارلیمان اور اسمبلیوں میں بی جے پی اراکین کی تعداد کے مدنظر ان کا منتخب ہونا تقریبا طے ہے۔بھارت کے صدر یوں تو تینوں افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہوتے ہیں لیکن یہ آئینی عہدہ بڑی حد تک علامتی ہے۔ تاہم سیاسی ماہرین کے مطابق بعض سیاسی حالات، توڑ جوڑ کی سیاست اور بھارت میں "آمرانہ جمہوریت” کے دور میں اس کا رول کافی اہم ہوجاتا ہے۔جرمن میڈیا کے مطابق ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے کسی اہم عہدے کے لیے امیدوار کے نام کا اعلان کرنے میں شش و پنج برقرار رکھنے کی اپنے روایت پر عمل کرتے ہوئے بالآخر بدھ کی شام کو بھارت کے 15ویں صدر کے عہدے کے لیے اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کردیا۔اس سے قبل اپوزیشن اتحاد نے سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا کو اس عہدے کے لیے اپنے امیدوار کے طور پر پیش کیا تھا۔ صدارتی انتخابات 18جولائی کو ہوں گے۔بی جے پی نے گزشتہ مرتبہ بہار کے اس وقت کے گورنر رام ناتھ کووند کو اپنا امیدوار بنایا تھا۔ اس مرتبہ اس سیاسی جماعت نے بہار سے الگ ہوکر علیحدہ ریاست بننے والے جھارکھنڈ کی سابق گورنر دروپدی مرمو کو اپنا امید وار بنایا ہے۔


