پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف حسین طائب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف حسین طائب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا وہ گزشتہ 12 سال سے زیادہ عرصے سے اس عہدے پر فائز تھے۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان رمضان شریف نے ایک بیان میں کہا کہ سپاہ کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی نے بریگیڈیئر جنرل محمد کاظمی کو پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔ بیان کے مطابق سلامی نے حسین طائب کو اب اپنا مشیر مقرر کیا ہے۔ واضح رہے کہ پاسداران کی انٹیلی جنس تنظیم ایران کی وزارت سراغرسانی سے الگ اور بالکل متوازی کام کرتی ہے۔ انٹیلی جنس چیف کے سربراہ کی تبدیلی پاسداران انقلاب کے متعدد ارکان کی پْراسرار انداز میں ہلاکت کے بعد سامنے آئی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا نے پاسداران انقلاب کو کالعدم گروہ قرار دے رکھا ہے۔ ایران اور امریکا کے اتحادی اسرائیل برسوں سے جاری سردجنگ میں الجھے ہوئے ہیں لیکن تہران کی جانب سے صہیونی ریاست پر حال ہی میں متعدد ہائی پروفائل قتل کے واقعات کے بعد دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ پاسداران انقلاب نے وضاحت کیے بغیر ایک بیان میں کہا کہ 13 جون کو گارڈز کے ایرو اسپیس ڈویژن کے رکن علی کمانی وسطی صوبہ مرکزی کے شہر خمینی میں ایک مشن کے دوران مارے گئے تھے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق اس سے قبل جون میں گارڈز کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمہ دار القدس فورس کے کمانڈر کرنل علی اسماعیل زادہ اپنے گھر میں ایک حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ 22 مئی کو ایرانی دارالحکومت کے مشرق میں پاسداران انقلاب کے 50 سالہ کرنل حسن صیاد خدائی کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کے گھر کے باہر قتل کردیا تھا۔ انہیں پانچ گولیاں ماری گئی تھیں۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق کرنل خدائی القدس فورس کے رکن تھے اور وہ شام میں کارروائیوں کی وجہ سے معروف تھے جہاں ایران نے صدر بشارالاسد کی حمایت میں اپنے متعدد فوجی مشیر تعینات کر رکھے ہیں اور وہ ان کا اعتراف بھی کرتا ہے۔ پاسداران انقلاب نے صیاد خدائی کو مزار کا محافظ قرار دیا تھا۔ شام یا عراق میں ایران کی جانب سے کام کرنے والے اہلکاروں کے لیے یہ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ گارڈز نے صیہونیوں پر اس قتل میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا اور ان کا انتقام لینے کا عہد کیا تھا۔ اس کشیدگی کے پیش نظر اسرائیل نے گزشتہ ہفتے اپنے شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ ایرانی کارندوں کی جانب سے ممکنہ دھمکیوں کی وجہ سے فوری طور پر ترکی سے نکل جائیں۔ اس نے اپنے شہریوں کو ترکی کے سفر سے گریز کا بھی مشورہ دیا تھا۔


