افلاس زدہ بلوچستان

جلال نورزئی
بلوچستان کئی حوالوں اور پہلوؤں سے درماندگی اور افلاس کا شکار ہے۔ ستم یہ ہے کہ یہاں حمیت اور ظرف کا افلاس بھی پایا جاتا ہے، جس میں بڑے بڑے مبتلا ہیں۔ یہی افلاس صوبے کی ترقی، خوشحالی اور خود مختاری کی راہ میں حائل ہے، جو صوبے کو آگے بڑھنے نہیں دے رہا۔ جن ہاتھوں میں اقتدار کی کنجی گئی ہے کہ اسباب کی تلاش کارگراں نہیں بلکہ عوامل بڑے واضح ہیں۔ یہ افلاس خرابیوں کی وجوہات میں سے ہے۔ بلوچستان کی پارلیمانی تاریخ میں شاید ہی کوئی حکومت مثالی رہی ہے، جفا، حکومتیں گرانا، خرید و فروخت کی سیاست، سازشیں، فریب کاریاں اس تاریخ میں نمایاں ہیں۔ عہد و پیمان کو توڑنا عام سی بات ٹھہری ہے اور جہاں اچھی قیادت کی رمق دکھائی دی ہے تو ان کے آگے طرح طرح کی رکاوٹیں پیدا کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا ایسے افراد نے ناک میں دم کر رکھا تھا، تب بڑی تعداد میں یہ مسلم لیگ نواز میں جمع تھے، جونہی وقت آیا سب نے مسلم لیگ نواز کو پیٹھ دکھائی اور ق لیگ کے عبدالقدوس بزنجو کو وزیراعلیٰ بنایا اور پھر یہ بلوچستان عوامی پارٹی کے دوسرے نام سے ایک جگہ جمع کرلئے گئے۔ بہرحال عام انتخابات 2018ء کے بعد وزارت اعلیٰ کا منصب جام کمال جیسے موزوں و اہل شخص کو دیا گیا، جام کمال خان مروجہ سیاسی چال بازیوں سے آشنا نہ تھے، مخصوص منش کے حامل اراکین مسلسل مسائل کھڑے کرتے رہے۔ ایک وزیر یا مشیر اس بنا ناراض تھے کہ اس کے چھوٹے بھائی عبدالصمد کو جام کمال نے کوئٹہ کی تحصیل میں سب رجسٹرار کے عہدہ سے کیوں ہٹایا، جہاں یومیہ لاکھوں روپے اراضیات کے انتقالات وغیرہ پر کمائی ہوتی ہے اور آخر کار مرضی کی جگہ پر تعینات کرا ہی لیا گیا، ایسی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، گویا مخصوص طبقہ نے بشمول جمعیت علماء اسلام بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے نظام کی روانی میں خلل ڈال کر صوبے کو نقصان سے دو چار کردیا۔ بلوچستان میں ڈھونگ اور بندر بانٹ کی جمہوریت قائم ہے، پی ایس ڈی پی کے تھیلے کا منہ کھلا رکھا گیا ہے، خواہ گنجائش ہو نہ ہو بھاری بھاری فنڈز مختص کئے جاتے ہیں، یہ ان سب کو ایک ترازو میں رکھنے کی حکمت عملی ہے، سیاسی و گروہی ترجیحات کے تحت معقولات پس پشت رکھی گئی ہے۔ جمعیت علماء اسلام بلوچستان میں اگر کوئی پاک دامن ہے تو وہ ملک سکندر ایڈووکیٹ ہیں، سکندر ایڈووکیٹ بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد ہیں، چناں چہ اس قلندر نے بھی جماعتی منافع کو سامنے رکھ کر صوبے کے مجموعی مفاد کو داؤ پر لگا کر گناہ میں ساتھ دیا ہے۔
اگر یہی سیاست ہے تو پھر ان کی جماعت کے مولانا شیرانی کا تحریک انصاف سے ہاتھ ملانا بھی درست اقدام ہے۔ دیکھا جائے تو عبدالقدوس بزنجو آخر وقت تک پی ڈی ایم کے مقابلے میں تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے تھے، رکن قومی اسمبلی زبیدہ جلال بھی ان کی ہم خیال تھیں، اب جب وفاق میں سیاسی منظر نامہ یکسر تبدیل ہوا ہے، اگر بلوچستان کے اندر معقولیت کی راہ نہیں اپنائی جاتی یعنی جام کمال خان اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد میں ساتھ نہ دیا گیا تو کم از کم از خود صوبے کی صاف شفاف شناخت قائم کرنے کیلئے کوئی قدم اٹھائیں۔مسلم لیگ نواز کی بلوچستان اسمبلی میں نمائندگی ہوتی تو شاید کوئی قدم اٹھالیتی کہ جنوری 2018ء میں صوبے میں ن لیگ کی حکومت گرا کر عبدالقدوس بزنجو نے میاں نواز شریف خاندان پر رقیق حملے کئے، انہوں نے میڈیا پر بارہا کہا کہ اسے والد عبدالمجید بزنجو نصیحت کرتے تھے کہ‘یہودیوں پر اعتبار کرلیں پر میاں نواز شریف پر مت کرنا’وغیرہ وغیرہ۔وزیراعظم میاں شہباز شریف نے تین جون کو گوادر کے دورے کے دوران وہاں مچھیروں کو ان کی کشتیوں کیلئے دو ہزار جنریٹر دینے کا اعلان کیا۔ لگتا ایسا ہے کہ یہ اعلان وزیراعظم نے عبدالقدوس بزنجو اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے کہنے پر کیا ہے۔ اچھی بات ہے کہ وہاں کے مچھیرے امداد کے مستحق ہیں، مگر گوادر میں بی این پی کے حمل کلمتی جو عبدالقدوس بزنجو کے انتہائی قریبی ہیں اور دوسرے سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے ہی دراصل خرابیوں کیلئے ذمہ دار ہیں، وہاں کے غریب عوام اور مچھیرے ان کی بالادستی سے عاجز آچکے ہیں، حق دو تحریک اس طبقے اور مختلف النوع مسائل کا ردعمل ہے، اس تحریک نے بلدیاتی انتخابات میں ان کے ہوش اڑادیے ہیں۔گویا گوادر میں اس اشرافیہ کو اپنے تسلط اور سیاست کی آن پڑی ہے، اس بناء وہ اس تحریک کا زور توڑنے اور منتشر کرنے کیلئے مختلف حربے استعمال کررہے ہیں، طرح طرح کے الزمات اور زمین و آسمان کے قلابے ملانے کی سعی میں لگے ہیں۔ادھر نوابزادہ طارق مگسی نے جام کا ساتھ چھوڑ کر قدوس بزنجو کی قیادت پر اکتفا کرلیا ہے۔ میر ظہور بلیدی بھی عبدالقدوس بزنجو سے دوبارہ بغل گیر ہوئے ہیں۔ ظہور بلیدی، جام کمال حکومت کے وزیر خزانہ تھے، 2018ء کے انتخابات کے بعد یہ وزارت اعلیٰ کے خواہشمند تھے، جام کمال کے خلاف گروہ بندی میں نمایاں تھے، نگاہ وزارت اعلیٰ کی کرسی پر لگی تھی۔ عبدالقدوس بزنجو نے وزیراعلیٰ بن کر ان سب کو چکمہ دے دیا اور یہ دیکھتے رہ گئے۔ بزنجو نے انہیں اور سردار یار محمد رند وغیرہ کو خوب استعمال کیا۔ ظہور بلیدی پر یاس و بد دلی چھائی رہی، کچھ وقت میں بولنا شروع کیا کہ عبدالقدوس بزنجو کی حکومت میں نوکریاں فروخت ہورہی ہیں، ترقیاتی منصوبوں میں بھاری کمیشن لیا جارہا ہے، چونکہ عبدالقدوس بزنجو کیخلاف عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں جام کمال وزارت اعلیٰ کے امیدوار نہ تھے، اس طرح ظہور بلیدی یقینی طور اس بنا متحرک ہوئے کہ قدوس کو ہٹائے جانے کی صورت میں شاید وہ وزیراعلیٰ بن جائیں۔ یوں سردار عبدالرحمان کھیتران کی رہائشگاہ پر عبدالقدوس بزنجو سے ملاقات ہوئی، اطلاعات کے مطابق بھاری فنڈز دینے کا وعدہ کیا گیا ہے، بقول شاعر کہ حمیت نام ہے جس کا، گئی تیمور کے گھر سے۔ سردار عبدالرحمان کھیتران اس منظر نامے میں مختار کل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں