ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی، پی پی بلوچستان

کوئٹہ (انتخاب نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ 5 جولائی پاکستان کی جمہوریت کیلئے سیاہ ترین دن ہے اس دن ایک ڈکٹیٹر نے منتخب جمہوری حکومت پر شب خون مارا تھا جس کے نتائج قوم آج بھی بھگت رہی ہے،ملک میں مارشل لاء لگانے والے آمر کو آج کوئی یاد نہیں کرتا مگر ذوالفقار علی بھٹو کو جمہوریت کیلئے کھڑ ا ہونے اور انکی خدمات کو آج ملک کا بچہ بچہ خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوری طریقے سے ملک میں قائم سول مارشل لاء کو ختم کرکے عمران نیازی اوراسکی ٹیم کو گھر بھیجا اور عوام کو سلیکٹڈ حکمرانوں سے نجات دلائی۔ آمر کی باقیات کے خاتمے اور حقیقی جمہوریت کے قیام تک پیپلز پارٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے آنے والے عام انتخابات کی ابھی سے تیاریاں کریں جس طرح بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات میں پارٹی نے شاندارکامیابی حاصل کی اسی طرح عام انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی بھر پورکامیابی حاصل کریگی۔ یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر میر چنگیز خان جمالی، جنرل سیکرٹری روزی خان کاکڑ، سیکرٹری اطلاعات سردار سربلند خان جوگیزئی، سابق صوبائی وزیر نواب محمد خان شاہوانی، سابق جنرل سیکرٹری سید اقبال شاہ، لیبر بیورو کے صدر شاہجہان گجر، خواتین ونگ کی صوبائی صدر غزالہ گولہ، سکینہ عبداللہ، اقلیتی ونگ کے صوبائی صدر جعفر جارج، جبار خلجی، ہاشم محمد شہی، ثناء درانی، سردارعمران بنگلزئی، صغیر کھرل، بابو لاشاری، شہزادہ کاکڑ،شان ثاقب ابڑو، اختر بلوچ، عبداللہ درانی، حاجی عزیز لانگو اوردیگر نے پاکستان پیپلز پارٹی لیبربیورو کے زیراہتمام 5 جولائی یوم سیاہ کے حوالے سے کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔تقریب میں ملک عبدالحمیدکاکڑ،الطاف گجر،منور لانگو،مصطفی کاکڑ،ندیم آفریدی،چترومل ماترے، حنا گلزار اوردیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مارشل لاء لگانے والے آمر کو آج کوئی یاد نہیں کرتا مگر ذوالفقار علی بھٹو کو جمہوریت کیلئے کھڑ ا ہونے اورانکی خدمات کو آج ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ پیپلز پارٹی کسی کی بنائی ہوئی جماعت نہیں ہے، یہ جماعت عوام نے بنائی ہے اوراسکی جڑیں عوام میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ 5جولائی پاکستان کی تاریخ کا تاریک ترین دن ہے، آج کے دن ایک ڈکٹیٹر ضیاء نے جمہوری سفر کو روک کر ملک کو اندھیروں مین دھکیل دیا گیا بھٹو عوام کے دلوں میں زندہ اور قاتل آج تک محروم و تنہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو نے سر زمین بے آئین کو 1973ء کا متفقہ آئین دیا، عوام کو آئینی حقوق کی فراہمی اور مظلوم و محروم طبقات کو زبان دی جو ملک دشمنوں کو ہضم نہیں ہوئی اور ایک ابھرتے خوشحال اور جمہوری پاکستان کا دھارا زوال کی طرف موڑا گیا۔ ایک آمر نے منافقت سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹا اور بدترین جبر کی بنیاد رکھی۔ بھٹو نے اسلامی ملکوں کی قیادت کی۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا تاکہ معاشرہ اپنی جمہوری و معاشی استعبداد سے محروم ہو جائے، بھٹو نے پوری قوم کو جگایا اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے اسے بااختیار بنایا۔ بھٹو سمجھتے تھے کہ غربت و افلاس قدرت نہیں انسانوں کے پیدا کردہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 5جولائی 1977 ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ایک فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے ملک پر مارشل لا نافذ کردیا تھا، ملکی تاریخ کے اس کربناک دن کو ملک بھر میں پیپلز پارٹی اور جمہوری طاقتیں یوم سیاہ کے طور پر مناتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں