خاران کے لوگوں کو سرکاری نوکریوں میں نظر انداز کیا جارہا ہے، کر یم نوشیروانی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما سابق صوبائی وزیر خادم خاران میر عبدالکریم نوشیروانی نے موجودہ نمائندوں کی خاران عوام سے سو تیلا سلوک پر اظہار برہمی اور افسوس کرتے ہو ئے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور صوبائی حکومت خاران کے ورکروں کو مختلف محکمے لیویز، ایجوکیشن ہیلتھ، ایری گیشن کے پوسٹوں میں نظر انداز کرنے کا سختی سے نوٹس لے۔ اور صوبائی حکومت کے دئیے گئے کروڑوں روپے کے فنڈز اور اسیکمات اور لیویز پوسٹوں کو ایک سال سے صرف بلدیاتی الیکشن میں ہماری خلاف استعمال کے لیے روکا گیا تھا۔ جو آج ثابت ہوا کہ لیویز پوسٹوں کی بندر بانٹ کرکے اپنی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرسکے۔لیکن اللہ تبارک تعالی کے فضل کرم سے ہم نے اپنی مدد اپکے تحت بلدیاتی الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے مخالفین کو عبرتناک شکست سے دو چار کیا۔ آج لیویز پوسٹوں میں میرٹ کی دھجیان اڑا کر بغیر دوڑ اور انٹر ویو والوں کو اپنی ناکام سیاست کو بچانے کی کوشش میں لگے ہے۔ جبکہ ان لوگوں کو خاران عوام نے ہمیشہ ہمیشہ اس طرح کے عوام دوشمن پالیسوں کی وجہ سے مسترد کیا ہے۔موجودہ نمائندوں کی بلوچستان عوامی پارٹی کے ورکروں اور خاران عوام کے ساتھ ظلم اور نا انصافی کی انتہا ہے۔ ہم بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی صدر وزیراعلیٰ بلوچستان میر قدوس بزنجو، سینیٹ چیئرمین حاجی صادق سنجرانی، رخشان ڈویژن کے آرگنائزر میر اعجاز سنجرانی سے اپیل کرتے ہے کہ خاران کے عوام کے ساتھ متواتر ناانصافیوں کا نوٹس لے کر ورکروں کی احساحی محرمیوں کو دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں۔ ہم وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی وزیر داخلہ، ڈی جی لیویز اور دیگر بالا حکام سے اپیل کرتے ہے۔کہ لیویز پوسٹوں میں بے ضابطگیوں کا نوٹس لے کر میرٹ کی بنیاد پر نظرثانی کریں۔ بصورت دیگر میں خاران عوام کے حق حقوق کی خاطر 20 تاریغ کو جیل برو تحریک، پہیہ جام ہڑتال، آفس کی تالالہ بندی کرکے خود خاران عوام کے حق حقوق کی خاطر جیل میں بیٹھ جاونگا۔


