کوہلو،انتظامیہ کی غفلت سے نیو کلی کے مکین گندے بارش اور نالیوں کے پانی پینے پر مجبور
کوہلو(آن لائن)حکومت بلوچستان کا حالیہ مون سون بارشوں سیلاب سے نمٹنے کے لیے الرٹ جاری ہونے کے باوجود محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور ضلعی انتظامیہ کی غفلت سے نیو کلی کے مکین گندے بارش اور نالیوں کے پانی پینے پر مجبور ہیں پبلک عملہ کو نیو کلی کے بوسیدہ پائپوں کے مرمت کا بار بار اطلاع دینے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوا مکین گیسٹرو اور ہیپاٹائٹس جیسے مہلک امراض کا شکار بنتے جا رہے ہیں مکینوں کا اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق جس طرح حالیہ مون سون بارشوں نے بلوچستان بھر میں تباہی مچا دی اسی طرح ضلع کوہلو بھی شدید متاثر ہوا حکومت بلوچستان نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دفعہ ایک چوالیس نافذ کرنے کے باوجود محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پے سوالیہ نشان اٹھنے لگے کوہلو شہر سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر نیوکلی کے مکین بارش اور سیلاب کے پانی پینے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے شہری گیسٹرو اور ہیپاٹائٹس جیسے مہلک امراض کے شکار بنتے جارہے ہیں ۔نیو کلی کے مکینوں کے مطابق محکمہ پبلک ہیلتھ کے زمہ داران کو آگاہ کرنے کے باوجود بوسید اور سیلاب سے متاثرہ پیپ لائنوں کا مرمت نہیں کر سکے ۔نیوکلی کے مکینوں نے صوبائی وزیر تعلیم میر نصیب اللہ خان مری ،وزیر اعلی بلوچستان ،کمشنر سبی ڈویژن ،ڈپٹی کمشنر کوہلو سے نوٹس لے کر فوری طور پر پائپ لائنوں کی مرمت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا تاکہ مزید شہری مہلک امراض میں مبتلا نہ ہوں ۔


