لاپتہ افراد کو جعلی مقابلے میں قتل کرنا ظلم ہے، اثرات سنگین ہوں گے، بلوچ یکجہتی کمیٹی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی نے زیارت میں لاپتہ افراد کو جعلی مقابلے میں مارنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انصاف جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کی صرف بات کی جاتی ہے جبکہ اس کے برعکس بلوچستان میں ظلم و جبر کی حکومت ہے اور وہاں بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں، انہیں جعلی مقابلوں میں قتل کیا جارہا ہے۔ زیارت میں جن 9 افراد کو جعلی مقابلوں میں مارا گیا ہے وہ پہلے سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے۔ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مارنا ناانصافی اور جبر کی انتہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جن افراد کو سیکورٹی فورسز کی جانب سے 13 جولائی کو زیارت میں مقابلے میں مارنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ان میں سے 3 افراد کی شناخت پہلے سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے شمس ساتکزئی، طالب علم شہزاد بلوچ، انجینئر ظہیر بلوچ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ باقیوں کی شناخت کا سلسلہ جاری ہے۔ لاپتہ کیے گئے ان افراد کے اہلخانہ نے ان کی جبری گمشدگی کیخلاف بلوچستان بھر میں احتجاج کیا ہے، بجائے انہیں رہا کرنے کے انہیں جھوٹے انکاو¿نٹر میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کیخلاف حکومت، سیاسی جماعتیں اور عدلیہ کو حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ سلسلہ خوفناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔ ترجمان نے بیان کے آخر میں عدلیہ، چیف جسٹس آف پاکستان اور انصاف کے تمام اداروں سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان میں جعلی مقابلوں میں بےگناہ افراد کو نشانہ بنانے کے اثرات سنگین ہوں گے جس کی روک تھام کیلئے انہیں سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ سیکورٹی فورسز کو بلوچستان کے تمام اختیارات دینا خطرناک ثابت ہوگا اور بلوچستان میں حالات مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔


