بار کونسلز کا سپریم کورٹ رولز میں ترمیم کا مطالبہ، مشترکہ اعلامیہ جاری
اسلام آباد (انتخاب نیوز)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت بار کونسلز نے سپریم کورٹ رولز میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کردیا۔بدھ کو مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے دائرہ کار سے متعلق آئینی شقوں میں ترمیم کی جائے، چیف جسٹس کے کیس فکس کرنے اور بینچز بنانے کے اختیار کو ریگولیٹ کیا جائے،بینچ بنانا پانچ سینئر ترین ججوں کی صوابدید ہونی چاہیے، نظرثانی اپیلیں سننے والا بینچ مرکزی کیس سننے والے بینچ سے مختلف ہونے کے لیے سپریم کورٹ رولز میں ترمیم کی جائے، بار کونسلز کا کوئی ذاتی مفاد نہیں نہ وہ کسی ایک جماعت کے ساتھ ہیں جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے کہا ہے کہ تمام بار ایسوسی ایشنز نے اعلی عدلیہ میں سنیارٹی کے برخلاف ہونے والی تقرریوں کو نہ ماننے کا فیصلہ کیا ہے۔بدھ کو صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے مختلف بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کی، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشنز کی دعوت پر تمام بار ایسوسی ایشنز نے شرکت کی۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے مطالبہ کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف کیوریٹیو نظرثانی کو ختم کیا جائے اور حکومت فوری طور پر ہمارے مطالبہ پر عمل کرے۔احسن بھون نے کہا کہ تمام بار ایسوسی ایشنز نے اعلی عدلیہ میں سنیارٹی کے برخلاف ہونے والی تقرریوں کو نہ ماننے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان اور جوڈیشل کمیشن ممبران سنیارٹی اصول کو مد نظر رکھیں،10، 12سال سے بار ایسوسی ایشنز مطالبہ کر رہی ہیں کہ دفعہ 184 (3) کا طریقہ کار طے کیا جائے۔احسن بھون نے کہا کہ دفعہ 184(3) کے مقدمات میں اپیل کا حق دیا جائے، حکومت سے بھی 184(3) میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے اور نظر ثانی کیس میں وکیل تبدیل کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔سپریم کورٹ بار صدر نے کہا کہ کھیل کھیل میں ہماری معیشت کہاں پہنچ گئی۔ انہوںنے کہاکہ بیچز کی تشکیل کا فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ سینئر جج صاحبان کو کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آئین اجازت دیتا ہے کہ تقرری کے لیے جج کا نام کوئی بھی جوڈیشل کمیشن کا ممبر کر سکتا ہے، جوڈیشل کمیشن کے رولز آئین کے برخلاف، ججوں کی تعیناتی کوئی انتخابی عمل نہیں ہے،ہم سیاسی ڈائیلاگ اور برداشت چاہتے ہیں۔


