سرکاری محکموں میں ای فائلنگ سسٹم کا آغاز بہت جلد کردیا جائیگا، ڈاکٹر ربابہ بلیدی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) پارلیمانی سیکرٹری سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ سول سیکرٹریٹ بلوچستان کے چھ محکموں میں ای فائلنگ سسٹم کا آغاز بہت جلد کردیا جائیگا جس کی کامیابی کے بعد مزید محکموں میں ای فائلنگ کا نظام متعارف کرایا جائے گا یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز محکمہ سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے دی گئی محکمانہ بریفننگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی اس موقع پر سیکرٹری سائنس اینڈ آئی ٹی محمد طیب لہڑی نے پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کو بریفننگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2011 سے سائنس اینڈ آئی ٹی کا محکمہ علیحدہ طور پر مکمل ڈیپارٹمنٹ کے طور پر خدمات کی انجام دہی کررہا ہے اور محکمہ داخلہ سمیت مختلف صوبائی محکموں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق معاونت فراہم کی جارہی ہے اس وقت حکومت بلوچستان کے مختلف محکموں کی 12 ایپس کی تشکیل پر کام جاری ہے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے سیکرٹری آئی ٹی محمد طیب لہڑی نے صوبے میں جاری مختلف آئی ٹی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی، پارلیمانی سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم اور فارغ التحصیل گریجویٹس کو آئی ٹی کے مختلف شعبوں میں ہنر مند بنانے کے لئے پہلے سے قائم اداروں سے استفادہ کیا جائے اور ایسے ٹریننگ ماڈیول تشکیل دئیے جائیں جو باعزت روزگار کا ذریعہ ثابت ہوں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ کوئٹہ اور گوادر سیف سٹی منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے انہیں 2023 تک مکمل کیا جائے تاکہ جن مقاصد کے لئے یہ منصوبے قائم کئے گئے ہیں وہ حاصل کئے جاسکیں انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں قائم نو آئی ٹی انسٹی ٹیوشنز میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی دور کرکے انہیں فعال بنایا جائے گا انہوں نے کہا کہ کسی بھی منصوبے کی تکمیل یا بہتری کے لئے طے شدہ اہداف کے حصول کے لئے ٹائم فریم کا تعین ضروری ہے اس لیے ہماری کوشش ہوگی کہ تمام منصوبے اور اہداف مقررہ مدت میں مکمل کر لئے جائیں تاکہ ان کے ثمرات سے عوام استفادہ کرسکیں بریفننگ میں ڈپٹی سیکرٹری آئی ٹی نور محمد، ایڈیشنل سیکرٹری عصمت اللہ خان، ڈائریکٹر جنرل عرفان بصیر، ڈائریکٹر اسلم بصیر، محمد اسماعیل بھی موجود تھے۔


