ظہیر اور دفنائے گئے شخص کی لاش کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے، ماما قدیر

کوئٹہ (انتخاب نیوز) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ہم حکومت اور عدالتی کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جس شخص نے خود کو ظہیر ظاہر کرکے پریس کانفرنس کی نادرا اور ڈی این اے ٹیسٹ کروا کر اس کی شناخت کی جائے تاکہ واضح ہوجائے کہ واقعی میں وہ ظہیر ہے، ان کاکوئی ہم شکل نہیں۔ اس کے علاوہ جس شخص کو ظہیرسمجھ کر دفنایا گیا، اسکی لاش کو نکال کر ڈی این اے کیا جائے۔ گزشتہ سال ظہیر بلوچ کے اہل خانہ نے ہم سے رابطہ کرکے اطلاع دی کہ انہیں دن دہاڑے کوئٹہ ایئر پورٹ روڈ سے اغوا کیا گیا ہے۔ چونکہ ہم ایک رضاکارانہ تنظیم ہیں، ہمارا بنیادی کام لاپتہ افراد کے خاندانوں کی مدد کرنا ہے، لہٰذا ہم نے کوشش کی۔ اب اس مخصوص کیس کو لے کر پورے لاپتہ افراد کے معاملے کو متنازعہ بنانا ناانصافی ہے۔ یہ ان لوگوں کے خاندانوں کیساتھ ناانصافی ہے جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے منتظر ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جسے فوج کے سابق ترجمان اور سپریم کورٹ بین الاقوامی تنظیم تسلیم کرچکے ہیں۔ اللہ سے ڈریں کیونکہ ہم سب نے اسے ایک دن جواب دینا ہے، بے بس لوگوں کے جذبات سے سیاست نہ کریں، کوئی بھی پاگل نہیں ہے کہ کہے اس کا پیارا لاپتہ ہے، ظہیر کا معاملہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ اس کے خاندان پر دباؤ ڈالے یا دھمکی دیے بغیر اس کی مکمل اور آزادانہ طور پر تفتیش کی جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں