سردار سینیٹر تین سال سینیٹ میں کچھ نہیں بولا، ملک میں 35 سال جرنیلوں نے حکومت کی، سراج الحق
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس ملک میں 35 سال جرنیلوں نے حکومت کی ہے۔باقی حکومتیں پی ڈی ایم پی ٹی آئی کی رہی ہیں، پی ٹی آئی حکومت میں آئی انہوں نے کیا قانون میں تبدیلی کی، اس ملک میں ہر طرح کی حکومت آگئی اب اسلامی نظام کو بھی دیکھ لیں۔ ہماری جماعت میں کوئی سرمایہ دار جاگیر دار نہیں ہے، ہمراہ ایجنڈا صرف اسلامی نظام ہے۔ بلوچستان پاکستان کا 43 فیصد ہے تمام معدنیات ہیں۔ گیس سونا چاندی تانبا سب یہاں موجود ہے۔ بارشوں سے سیلاب آیا 200 لوگ جاں بحق ہوئے۔ یہاں سیوریج کا نظام کا تباہ ہے، یہاں جسکی زمین سے کوئلہ نکلتا ہے وہاں وہ پریشان ہو جاتا ہے۔ تحصیلدار افسران یہاں بھتا لے رہے ہیں۔ یہاں جو رکھوالے ہیں وہی درندے بن گئے ہیں۔ آج لوگ اپنے ہی رکھوالوں سے ڈار رہے ہیں۔ یہاں کہا جاتا ہے شام کو نہیں نکلو کوئی اٹھا کر لے جائے گا۔ یہاں جعلی حکومت مسلط کی گئیں ہیں۔ یہاں 1 کروڑ پر 65 لاکھ کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں۔ یہاں مسنگ پرسنز کا مسئلہ ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، یہاں 12 دن سے مائیں بہنیں بیٹھی ہیں وزیر اعظم نہیں آئے انہیں پوچھنے، عمران خان کے دور میں 10 لوگوں کو مچھ میں جاں بحق کیا گیا، مائنس دس کی شدید سردی میں کوئٹہ پہنچایا، وہاں دھرنے میں جو مائیں بہنیں تھیں انکی چپل اور دوپٹے پھٹے ہوئے تھے، میں حیران تھا عمران خان وزیر اعظم تھے کہتے ہیں کہ بلیک میل نہیں ہونگا۔ اگر ایم این اے کے بچے ہوتے تو سب آتے لیکن غریب کے گلے کاٹے گئے۔ عوام کو بتانا چاہتا ہوں نواز شریف، شہباز شریف، زادری اور عمران خان سب ایک ہیں، یہ سب آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے غلام ہیں۔ پاکستان کو ایک انقلاب کی ضرورت ہے۔ میرے ساتھ ایک سردار سینیٹر تھا تین سال کچھ نہیں بولا، میں نے سردار سینیٹر سے کہا کہ آپ نے تین سال سے ایک بات بھی نہیں کی، مجھے اس سینیٹر نے کہا کہ سینیٹر بننے سے ہمیں ایئر پورٹ پر لمبی لائن میں لگنا نہیں پڑتا۔ یہ وہ سانپ ہیں جنہیں عوام دودھ پلاتے ہیں اور وہ حکمران بن جاتے ہیں۔ ہم بلوچستان کو مایوس نہیں کرینگے، جماعت اسلامی بلوچستان کے ساتھ ہے۔ ہمارا مستقبل روشن ہے، اللہ کی ذات سے مایوس نہ ہونا۔


