نکاسی آب کے نالوں پر تجاوزات کیخلاف آپریشن، لورالائی تباہی سے بچ گیا

لورالائی (انتخاب نیوز) چیف سیکرٹری بلوچستان اور سیکرٹری بلدیات کے حکم پر پورے بلوچستان کی طرح لورالائی کے نکاسی آب کے مین جکشن نالوں پر قبضہ مافیا کے خلاف ہزارہ محلہ میں کامیاب آپریشن سے گزشتہ روز ہونے والی طوفانی بارش سے لورالائی شہر کی60% آبادی تباہی سے بچ گئی جو کہ لورالائی کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عتیق الرحمن شاہوانی کی ہدایات پر میونسپل کمیٹی کے چیف علی محمد زہری اکاونٹ آفیسر حیات خان مردانزئی کی سربراہی میں میونسپل کمیٹی کے عملہ گذشتہ کئی دنوں سے ہزارہ محلہ کے مین جکشن نالوں سے قبضہ مافیا کے خلاف اپریشن جاری رکھے ہوئے ہے اور ابتک تقریبا 60% فیصد قبضہ مافیا کے خلاف کامیابی سے اپریشن ہو چکا ہے ایک انتہائی اچھا اقدام ہے اگر یہ اپریشن نہ ہوا ہوتا تو گذشتہ دنوں ہونے والی طوفانی بارشوں سے ہزارہ محلہ کی ایک بہت بڑی آبادی کو نقصانات سے دو چار ہونا پڑتا تھا جبکہ دوسرے سائیڈ یعنی لیویز لائن سے پولیس اسٹیشن صدر تھانہ اور ہسپتال تک کا علاقہ گذشتہ روز ہونے والی بارش سے شدید متاثر ہوا پولیس تھانہ،تحصیل اور اس سے ملحقہ دکانوں میں پانی گھس گیا جس کی وجہ سے اس علاقہ کے مکینوں کو شدید پریشانیوں سے دو چار ہونا پڑا عوامی حلقوں نے باچا خان چوک پر کنٹونمٹ بورڈ کی جانب سے دکانوں کے سامنے جکشن نالوں پر قبضہ کر کے نالے بند کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ پانی کی نکاسی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کنٹونمنٹ بورڈ کا قبضہ ہے اور لیویز لائن سے تحصیل روڈ پر نکاسی آب کے نالوں جب سے بنائے گئے ہیں صفائی نہیں کی گئی ہے اور نالے کچروں سے بھرے پڑے ہیں عوامی حلقوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اپریشن کوجاری رکھا جائے عوامی حلقوں نے صوبائی وزیر صنعت وتجارت حاجی محمد خان طور اتمانخیل کی جانب سے جکشن نالے پر قائم اپنی دونوں دکانیں خیر سگالی کے طور پر ہٹانے پر انکو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندہ اسی طرح کا ہو جو عوام کے دکھ درد کو سمجھ سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں