لاپتہ افراد کی بیٹیوں کے سر پر چادر ضرور رکھوں گا، نور عالم خان

اسلام آباد (انتخاب نیوز) چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہا ہے کہ احتساب بیورو، سپریم کورٹ اور دفاعی ادارے پی اے سی کے سامنے جوابدہ ہیں۔آج کل کیوں قومی اسمبلی کے کام میں مداخلت کرنے کا شوق پڑگیا ہے؟ قومی اسمبلی اجلاس میں انہوں نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، کچھ ادارے آئینی حدود میں مداخلت کر رہے ہیں۔ میں کبھی سودے بازی نہیں کروں گا، میں بیٹیوں کے سر پر چادر ضرور رکھوں گا، اس کے لیے چا ہے میری گردن کیوں نہ کٹ جائے،چیف جسٹس کو کہتا ہوں میرے اور میرے خاندان کے اثاثے چیک کریں،عدالت کہہ رہی ہے کہ آپ پبلک پٹیشن نہیں سن سکتے آج کل کیوں قومی اسمبلی کے کام میں مداخلت کرنے کا شوق پڑگیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا انہوں نے کہا کہ ایک خاتون نے مجھے پٹیشن بھیجی پٹیشن میں کہا کہ نیب کے سابق چیئرمین ایک ڈی جی کے خلاف فریاد کی میں نے پبلک پٹیشن لی اور میں نے سابقہ چیئرمین نیب کو بلایااس خاتون نے ویڈیو دکھائی جس میں واضح تھا کہ سابق چیئرمین نیب غیر اخلاقی حرکات کر رہے تھے۔ میں نے ایکشن لیامیرا گناہ یہ ہے کہ میں نے ایسا کیوں کیا یہ لوگ عدالت میں چلے گئے کہ ہم انہیں نہیں بلاسکتے سابقہ چیئرمین جو جسٹس بھی رہ چکے ہوں اور مسنگ پرسنز کمیشن کے سربراہ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آمنہ جنجوعہ نے بھی چیئرمین مسنگ پرسنز کا نام لیا۔ میں ان کو نہ جج کہوں گا وہ جاوید اقبال ہے جس نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا،مسنگ پرسنز کا سربراہ آپ اس کو بنائیں گے جو خواتین سے پوچھے کہ آپ نے شادی کی ہے؟،میں نے سیکرٹری آبی وسائل سے پوچھا کہ ایف ڈبلیو او کو ڈیموں کی تعمیر میں نا اہل کیاسابق وفاقی وزیر کی منشا سے مرضی کی کمپنی کو ڈیموں کا ٹھیکہ دیا گیا۔ نور عالم نے کہا کہ چیف جسٹس میرے اثاثے چیک کریں، میں کبھی سودے بازی نہیں کروں گا۔ میں بیٹیوں کے سر پر چادر رکھوں گا، مجھے کورٹ بلالیں، مجھے شہادت قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی اور مالم جبہ کا ریفرنس چیئرمین نیب کو بھیجا گیاتمام سیاسی جماعتوں کو کہتا ہوں کہ احتساب کا نعرہ ختم کردیں، میں نے تمباکو اور آٹو موبیل کو پکڑا ہے،ان پر ہاتھ ڈالتا ہوں تو سفارش آجاتی ہے۔ گاڑیوں کا معیار دیکھیں اور قیمت بڑھاتے جاتے ہیں،دس دس بیس بیس لاکھ اون کی صورت میں لوگوں سے لیتے ہیں، جب ایکشن لیتا ہوں تو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ حکم امتناع جاری کرتی ہیں۔ آئین ہم بناتے ہیں آپ اس کی تشریح تو کرسکتے ہیں تبدیل نہیں کرسکتے۔ میں چیف جسٹس کو کہتا ہوں میرے اور میرے خاندان کے اثاثے چیک کریں، سپیکر صاحب سے درخواست ہے کہ جو آئین کہتا ہے اس پر رولنگ دیں اپنا سر کاٹ دوں گا،بیٹی بہن کے سر پر چادر ڈالوں گا۔ نور عالم خان نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے کچھ ادارے آئینی حدود میں مداخلت کر رہے ہیں۔ میں پی اے سی کا چیئرمین ہوں قوائد و ضوابط کے تحت احستاب بیورو، سپریم کورٹ اور دفاعی ادارے پی اے سی کے سامنے جوابدہ ہیں۔ مہمند اور بھاشا ڈیم کیلئے ثاقب نثار نے اربوں روپے کے فنڈز اکٹھے کیئے۔ آڈیٹر جنرل پاکستان کو کہا کہ وہ ان کا آڈٹ کریں۔ سپریم کورٹ نے آئینی خلاف ورزی کی ہے اور آڈیٹر جنرل کو کام سے روک دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ آڈٹ نہیں کرسکتے۔ بدقسمتی سے سپریم کورٹ نے 73ع کا آئین نہیں پڑھا ہے، آرٹیکل 66 کے کلاز 3 کے تحت جواب دینا لازم ہے َ سپریم کورٹ سمیت تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے کہتا ہوں کہ آئین پڑھ لیں۔ عدالت کہہ رہی ہے کہ آپ پبلک پٹیشن نہیں سن سکتے۔ آج کل کیوں قومی اسمبلی کے کام میں مداخلت کرنے کا شوق پڑگیا ہے۔ تمام افسران کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے ہیں میں نے احتساب افسران کو کہا کہ جس دن سے نیب جوائن کیا اثاثے ظاہر کریں یہ پوچھا تو لوگ خفا ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ پوچھا کیوں ایک ادارے کے تئیس سال سے رولز نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں