افغان حکومت نے امریکا کو ڈرون حملے کا جواب دینے کیلئے سر جوڑ لیے
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) القاعدہ سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کو کابل میں ڈرون حملے سے ٹارگٹ کیے جانے کے بعد افغان حکومت نے امریکا کو اس ڈرون حملے پر جواب دینے کے لیے سر جوڑ لیے۔ ایمن الظواہری کو کابل میں ہدف بنانے کے اس بڑے واقعے پر افغان حکومت نے تقریباً خاموشی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ القاعدہ سربراہ کو اس وقت ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جب وہ صبح سویرے اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑے تھے۔ اس واقعے کو القاعدہ کے لیے اسامہ بن لادن کے بعد سب سے بڑے دھچکے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مگر افغان حکومت نے ڈرون حملے کا تو کابل میں ذکر کیا ہے، الظواہری کے نشانہ بننے کا ذکر نہیں کیا۔ امریکی ذمہ دار نے اپنی شناخت کے عدم اظہار کی شرط پر کہا کہ امریکی ڈرون حملے آئندہ بھی جاری رکھنے کا اشارہ دیا ہے، تاکہ ڈرون حملوں کے ذریعے یہ یقینی بنایا لیا جائے افغانستان دوبارہ امریکا کے خلاف القاعدہ کی پناہ گاہ نہیں بنے گا۔ اس ذریعے کا کہنا تھا کہ ہم چوکس رہیں گے اور بوقت ضرورت کارروائی کرے گا۔ جیسا کہ ہم نے اس ہفتے کے دوران کیا ہے۔ نیز یہ بھی کہا کہ صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ اس تک افغان حکومت کے ساتھ رابطے میں رہے گی، جب تک یہ امریکی مفاد میں ہوگا۔ اب افغان حکومت کی اعلیٰ سطح کی میٹنگ ہونے کے بعد بھی یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ اگر وہ ڈرون حملے کا رد عمل دینے کا طے کرتے ہیں تو اس کا موزوں طریقہ کیا اختیار کرتے ہیں۔ افغان حکومت سے متعلق ذریعے کا کہنا تھا یہ میٹنگ دو دن جاری رہی۔ لیکن اس میں کیا طے کیا گیا ہے یہ بتانے سے معذرت کی ۔ اس ذریعے نے یہ بھی تصدیق نہیں کی کہ امریکی ڈرون نے الظواہری کے گھر کو ہی نشانہ بنایا تھا۔


