چاغی میں چوری، ڈکیتی کی بڑھتی وارداتوں کیخلاف آل پارٹیز کا احتجاج
چاغی (نامہ نگار) چاغی شہر میں چوری ڈکیتی کے واقعات میں اضافے سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا، شہری تشویش میں مبتلا ہیں، آل پارٹیز چاغی۔ تحصیل چاغی میں چوری ڈکیتی کے واقعات میں اضافہ ہوگیا۔ جمعیت علماء اسلام، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی نے چاغی شہر میں چوری اور ڈکیتی کے واقعات میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چاغی شہر میں جنگل کا قانون ہے، آئے روز چوری ڈکیتی کے واقعات میں اضافے سے عوام اور تاجر برادری میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور چاغی کے شہری تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ چاغی شہر میں چوری ڈکیتی کے واقعات انتہائی ناخوشگوار صورتحال کی نشاندہی کررہے ہیں جس پر چاغی کے عوام کو شدید تشویش ہے۔ چاغی میں گزشتہ ہفتے چاغی بازار سے تین نان بائی دکاندار، چاغی لشکرآپ چوک پر محمد ابراہیم محمد حسنی کی دکان، چاغی شہر کے قریب ٹیوب ویل میں بورنگ لگانے والے 8 افراد کو لوٹ لیا۔ تحصیل چاغی انتظامیہ عوام کے تحفظ میں مکمل ناکام نظر آرہی ہے اور ڈاکو و چور مکمل آزادی کے ساتھ عوام کو لوٹنے میں مکمل آزاد نظر آرہے ہیں۔ چاغی میں امن و امان کی مخدوش صورتحال پریشان کن ہے، چاغی شہر میں اچانک چوری و ڈکیتی کے واقعات سے عوام خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں۔ ضلع چاغی انتظامیہ ڈی سی چاغی پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان واقعات کے سدباب کے ساتھ ساتھ ان واقعات میں ملوث سماج دشمن عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن کرکے عوام کو تحفظ فراہم کریں۔ انہوں نے ایم پی اے چاغی میر عارف جان محمد حسنی، کمشنر رخشان ڈویژن سیف اللہ کھیتران اور ڈی سی چاغی انعام الحق اسسٹنٹ کمشنر چاغی عبدالباسط بزدار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چاغی تحصیل میں ان واقعات میں ملوث مجرموں کیخلاف کارروائی عمل میں لاکر عوام کو تحفظ فراہم کریں۔ چاغی شہر میں قیام امن کو یقینی بنانا ضلع چاغی انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے اور چاغی میں سیکورٹی کا سخت اقدامات میں اضافہ کریں اور تحصیل چاغی کے امن اومان کے حوالے تحقیقات کرے۔


