پنجگور، حق دو تحریک نے بارڈر کمیٹی کو مسترد کردیا، انٹری پوائنٹس کھولنے کا مطالبہ
پنجگور (انتخاب نیوز) پنجگور حق دو تحریک نے بارڈر کمیٹی کو مسترد کردیا آل پارٹیز سے مطالبہ کیا کہ اپنے مؤقف کی وضاحت کریں بارڈر کمیٹی نے پنجگور کے تیل کے کاروباری لوگوں کی روزی روٹی چھین کر اسٹیکر ٹوکن کو انتظامیہ کے ملی بھگت سے سر بازار دو تین لاکھ روپے میں فرخت کیا جس کی وجہ سے پنجگور کے کاروباری لوگ بارڈر کے کاروبار و دو وقت کی روٹی کا محتاج ہوئے ہیں، حق دو تحریک کے ڈپٹی آرگنائزر ملا فرہاد نے کہا ہے کہ ہم شروع دن ٹوکن اسٹیکرز کے حق میں تھے نہ انکی حمایت کی ہے لیکن آل پارٹیز کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے علاقائی روایات برقرار رکھتے ہوئے انکے خلاف نہیں گئے لیکن آج پنجگور میں بارڈر کاروبار کی بندیش ٹوکن کی خرید وفروخت کے زمہ دار آل پارٹیز ہے نہ انہوں نے اپنی ذیلی کمیٹی کو جواب طلب کیا نہ عوام کو انتظامیہ کے ساتھ بارڈر بندش پر مطمئن کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے پنجگور دورے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات کرکے کہا تھا کہ پنجگور کے لوگوں کی ذرائع معاش ایران بارڈر ہے انکے انٹری پوائنٹ بڑا کر یہاں کے لوگوں کی کاروبار کو آسان بنایا جائے انہوں نے پورے جرگے و فورس کی موجودگی میں اقرار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بارڈر پر تمام اشیائے خورونوش تیل گیس فری ہے اور تین انٹری پوائنٹ کھول دیے جائیں گے لیکن ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک کے اعلان صرف اعلان تک محدود ہیں عوام کی تنگی اور تکلیف کی پروا نہیں ہے تو صرف یہاں ملک کے حکمرانوں سے امید نہیں بلکہ رب العالمین سے دعا کی جاسکتی ہے انہوں نے کہا ہے کہ آرمی چیف نے پنجگور کے سیاسی سماجی شخصیت میر کفایت اللہ کے بھائی سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کی یقین دہانی کرائی لیکن دس دس سال سے لاپتہ افراد آج بھی بازیاب نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ حیرانگی اس بات پر کس پر بھروسہ کریں کس پر یقین رکھیں ہمیں اس ملک میں سوائے مایوس کے کچھ نہیں ملا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ادارے عوام کے تحفظات دور کریں حق دو تحریک نے جو احتجاج 32دن تک گوادر میں کیا تھا وہ مجبورا پنجگور میں کریں گے۔


