نقش فریادی
تحریر : انور ساجدی
ملک کا 70فیصد حصہ غرقاب ہے کم از کم ڈیڑھ کروڑ لوگ کھلے آسمان تلے کسی امداد اور ریلیف کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں غالباً 1947 ء سے اب تک اتنی بڑی قدرتی آفت پہلی دفعہ آئی ہے اس صورتحال کی سنگینی کونظرانداز کرکے ملک کے سب سے بڑے اور مقبول لیڈر سیاست کھیل رہے ہیں انہیں اندازہ نہیں کہ بلوچستان کا 80فیصد انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے۔ ڈیڑھ کروڑ کاصوبہ جو نصف پاکستان ہے بے یارومدد گار پڑا ہے اور پورے ملک سے اس کے زمینی رابطے منقطع ہیں بجلی نہیںہے گیس نہیںہے ریل نہیں ہے غذا نہیں ہے دوا کہاں سے ہوگی جو سینکڑوں لوگ سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں ان کا سراغ لگانا باقی ہے ۔
مسنگ پرسنز کاالمیہ کیا کم تھا کہ اب سیلاب نے مزید بے خانماں لوگوں کو مسنگ کردیا ہے۔ جب سیلاب ختم ہوگا تو اس کے اثرات شروع ہونگے وبائی امراض پھوٹ پڑیںگے اور بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہونگی شدید بارشوں کے باوجود آئندہ سال شدید قحط سالی ہوگی کیونکہ تمام فصلیں برباد ہوچکی ہیں لاکھوں کسان منڈیوں کے قرض دار ہیں وہ یہ قرض کیسے اتاریں گے۔ اول توحساب یاجائزے کا امکان نہیں ہے اگرنقصانات کا سروے ہوا تو بلوچستان کا نقصان کھربوں میں ہوگا اس کا ازالہ اس لئے ممکن نہیں کہ وزیراعظم نے چند ارب روپے منظور کئے ہیں یہ رقم بھی بااثر لوگ ہڑپ کرجائیں گے کیونکہ بلوچستان کی بھوکی ننگی نوساختہ اشرافیہ کا پیٹ بحیرہ ارب سے بھی زیادہ گہرا ہے جو کبھی بھرتا نہیں ہے۔ لہٰذا حکومت کی طرف رحم طلب نظروں سے دیکھنے کی بجائے لوگوں کو اپنی مدد آپ کے تحت حوصلہ پکڑنا ہوگا اپنی زمینوں کو دوبارہ آباد کرنا ہوگا اور نئی فصلوں کیلئے ایک سال کا انتظار کرنا ہوگا جو ہزاروں باغ اجڑ گئے وہ تو دوبارہ لگ نہیںسکتے کیونکہ اسکے لئے کئی سال درکار ہیں اس صورتحال کو پاکستان کے بڑے لیڈر سنجیدہ نہیںلے رہے ہیں۔ انہیں تو بس اپنے اقتدار کیلئے غریب لوگوں کے ووٹ درکار ہیں وہ ہرمعاملہ کو سیاست کی نظر سے دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اسے کس طرح استعمال کرکے اپنی سیاسی قوت بڑھائی جائے ۔
یہ بے رحمانہ اور ظالمانہ طرز عمل آج کا نہیں ہے کافی عرصہ سے چلا آرہا ہے لیکن اس وقت کے مقبول ترین لیڈر عمران خان نے اسے انتہاﺅں تک پہنچادیا ہے موصوف نے آج تک سیلاب زدہ عوام سے ہمدردی کا ایک لفظ بھی نہیں کہا لیکن شہباز گل پرتشدد کے مسئلہ کو ہوا دے کر اسے اپنے لئے سیاسی موقع بنارہے ہیں خدا کرے کہ عمران خان کی یہ بات غلط ثابت ہو کہ دوران حراست شہبازگل کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے اگرخدا ناخواستہ ایسا بہیمانہ عمل ہوا بھی تھا تو اس کی پردہ داری کی جانی چاہئے تھی اس مسئلہ کو اچھال کربے چارہ شہبازگل کو تو جیتے جی ماردیا ہے عمران خان نے اس کی جو بھی عزت تھی یا نہیںتھی بازار میںاس کی دھجیاں بکھیردی ہیں اس کے باوجود کہ شہباز گل اقتدار کے دوران ایک نامعقول انسان تھے وہ روز مخالفین کی عزت اچھالنے کا کام کرتے تھے معلظات کہتے تھے اور اس طرح کی گالیاں پنجابی میںنکالتے تھے کہ الامان الحفیظ ۔پھر بھی ان کی عزت نفس کو تارتار کرنا ظالمانہ اقدام ہے عمران خان نے شہبازشریف گل کی عزت لوٹنے کے مسئلہ پر احتجاج کی کال دی ہے یعنی وہ اس حساس مسئلہ کو اپنے سیاسی فائدے کیلئے اچھالنا چاہتے ہیں سیاسی فائدہ کے علاوہ ان کا خیال ہے کہ مقتدرہ پر زیادہ دباﺅ ڈال کر وہ شہباز گل کے سلطانی گواہ بننے کا راستہ روکنے میںکامیاب ہوجائیںگے۔
ان کی حرکات وسکنات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کم بخت کرسی کو ابھی تک نہیںبھولے اس کی یاد ان کے ذہن سے جاتی نہیں ہے تین روز ہوئے وہ شدید تنقید کے بعد فریاد کررہے تھے درخواست کررہے تھے کہ اب بھی وقت ہے کہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرویعنی مجھے دوبارہ اقتدار کی کرسی پربٹھادو بظاہر تو انکے دوبارہ اقتدار میںآنے کا مستقبل قریب میںکوئی امکان نہیں ہے لیکن انہوںنے ابھی تک امید کا دامن چھوڑ انہیںہے غالباً نومبر کے مہینے میںیہ فیصلہ ہوجائیگا کہ عمران خان کے ہاتھوں سے اقتدار کی ریل گاڑی چھوٹ گئی ہے یا نہیںچھوٹی اگر ان کی مایوسی بڑھ گئی تو اضطراب کی کیفیت میںان سے مزید غلطیاں سرزد ہوجائیںگی اور وہ کسی دن کسی خطرناک بم کو لات مار بیٹھیںگے اور خود بھی اس کی زد میںآجائیںگے
عمران خان کو یہ حقیقت معلوم نہیں کہ پاکستانی سیاست اور اقتدار کے راستے میںسالہا سال سے بارودی سرنگیں نصب کی گئی ہیں ان پر چلنے اور خود کو بچانے کیلئے بے حد احتیاط کی ضرورت ہے ورنہ نوازشریف کاحشرسامنے ہے انہیں بلاوجہ سے بے عزت کرکے حادثات کا شکار بنایا گیا زرداری کودیکھئے انہیں مسٹرٹین پرسنٹ کالقب دے کر ساری دنیا میںبدنام کروایا گیا حالانکہ نہ زرداری نے اتنا کچھ نہیںکیا تھا کہ ان کے کپڑے اتارے جائیں اور نہ ہی نوازشریف نے کوئی ایسا ڈاکہ ڈالا تھا کہ انہیںیوں بے توقیر کی جائے یہ سارے کام عمران خان سے لئے گئے موصوف کاخیال تھا کہ وہ تاحیات اقتدار کی کرسی پر جلوہ افروز رہیںگے ان کا کوئی مدمقابل نہیںہوگا اور وہ 90سال کی عمر تک اقتدار کے مزے لوٹیں گے اگر وہ مزید 10 برس اقتدار سے چمٹے بھی رہتے تو باقی کیا بچتا لیکن ہوس کا کوئی علاج نہیںہے دوسروں کو بدنام کرتے کرتے عمران خان کے اپنے بڑے بڑے ڈاکے پکڑے گئے ہیں ۔
لوگوں کو یاد ہوگا کہ 2014ءسے 2018ءتک وہ روز جلسوں میںکہتے تھے کہ نوازشریف رسیدیں دکھائیں ورنہ جیل جائیں لیکن جب اپنی باری آئی ہے تو یف آئی اے کے سامنے پیش ہونے اور الیکشن کمیشن کو رسیدیں دکھانے سے منکر ہیں گویاموصوف قانون سے بالاتر ہیں حالانکہ جو اصول یا پیمانہ انہوںنے دوسروں کیلئے مقرر کیا تھا اپنے لئے بھی وہی زاویہ یااصول رکھیںانکو زعم ہے کہ وہ عوام میںبہت مقبول ہیں اور اہم اداروں میںان کے مداح بڑی تعداد میںموجود ہیں لیکن وہ نہیںجانتے کہ جو لوگ دوسروں کوٹھکانہ لگاکر آپ کو زبردستی اقتدار پر مسلط کرسکتے ہیں تو ان کی بار بھی سخت ہوتی ہے ابھی تک صرف بے چارہ شہباز گل زد میںآیا ہے جس دن آپ خود زدمیںآئے تو کیا ہوگا کیا آپ بھی شہباز گل کی طرح آہ بکا کرکے عدالت میںآئیںگے اور رحم کی دہائی دیں گے شاباش ہے زرداری کو کہ ان کی زبان کاٹ دی گئی اس کے باوجود انہوںنے نہایت جوانمردی کے ساتھ جیل کاٹی زبان کاٹے جانے کے باوجود انہوںنے اسکے ذمہ دار نوازشریف کو معاف کردیا بلکہ ان کی جماعت کو ایک بار پھر اقتدار میںبھی لے آئے۔
شہبازگل تو دمہ کی بیماری کے اثرات کم کرنے کیلئے ہلکی پھلکی نشہ آور چیز لیتے تھے جب آپ جیل جائیں تو وہاں پر وقت کیسے گزاریںگے کیونکہ آپ کوتو بڑی چیز چاہئے اگر وہ نہ ملے تو آپ سے جیل کیسے کاٹی جائے گی میراخیال ہے کہ عمران خان آج جس تکبر اور رعونت کے شکار ہیں اگر پکڑے گئے تو ان کی حالت شہباز گل سے بھی بری ہوجائے گی اور ان کی فریادیں بہت دور تک سنی جائیںگی لہٰذا موصوف کو صبروتحمل سے کام لینا چاہئے اور نئے انتخابات کاانتظار کرنا چاہئے ورنہ ایسا نقصان ہوگا کہ اس کا کبھی ازالہ نہیںہوسکے گا۔
عمران خان یہ بات بھی ذہن میںرکھے کہ جیل میںنہ انکا پسندیدہ سفوف ہوگا نہ شیرو ہوگا اور نہ کوئی غمکسار ساتھی جیل اس کے بغیر ہی کاٹنی ہوگی۔


