جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور عملے کو تنخواہ کی ادائیگی کی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) جوائنٹ ایکشن کمیٹی یونیورسٹی آف بلوچستان ٹیچرز، آفیسرز اور ایمپلائز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں جامعہ کے اساتذہ کرام، افسران کو دو مہینوں کی مکمل تنخواہوں کی تاحال عدم ادائیگی، جامعات کے گرانٹ ان ایڈز میں اضافہ، عرصہ دراز سے زیر التوا پروموشنز پر نام نہاد آڈٹ پیرا وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے منظور شدہ پے رویژن اور 15فیصد بجٹ میں اضافہ، جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے معاہدے کے مطابق ڈی آرے کی بقایا جات کی ادائیگی اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشنز کی بروقت ادائیگی سمیت دیگر درپیش مسائل کے حل کیلئے سخت احتجاج گزشتہ دس دنوں سے جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کی اساتذہ اور ملازمین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے، ایک طرف ہوشربا مہنگائی دوسری طرف طوفانی بارشوں نے پورے صوبے کی زراعت، مالداری، معیشت اور انفرا اسٹرکچر کو تباہ کردیا ہے چونکہ جامعہ کے اساتذہ اور ملازمین صوبے کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان کے رشتہ داروں کا انحصار بھی اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں پر ہے۔ بیان میں صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ جامعات کو فوری طور پر دس ارب روپے جاری کیے جائیں اور مرکزی حکومت ملک بھر کی سرکاری جامعات کیلئے 150 ارب روپے مختص کرے۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ، آفیسران و ملازمین کو مکمل تنخواہ کی فراہمی بقایاجات سمیت اور جامعات کو درپیش مالی بحران کے مستقل حل تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان نے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر، ٹریژار اور رجسٹرار جامعہ بلوچستان سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامعہ کے ملازمین کو بروقت اور مکمل تنخواہوں کی ادائیگی کا مستقل حل اور جامعہ ملازمین کو درپیش دیگر مسائل پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے مطالبات پر عملدرآمد فوری طور پر یقینی بنائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں