خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان حکومت کو بنی گالا کی سیکورٹی واپس لینے کا حکم
اسلام آباد (انتخاب نیوز) وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو ان کی بنی گالہ رہائش گاہ پر بغیر کسی درخواست یا قواعد و ضوابط کے فراہم کردہ سیکورٹی واپس لے لیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے یہ درخواست خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز اور انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پیز) کو لکھے گئے خط کے ذریعے کی۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی منظوری اور وزارت داخلہ کے ایک سیکشن افسر کے دستخط کے ساتھ جاری خط میں کہا گیا کہ کابینہ کے فیصلے کے تحت دھمکیوں کی تشخیص کے لیے وفاقی کمیٹی نے 22 اگست کو ہونے والے اپنے 18ویں اجلاس میں عمران خان کے کیس پر غور کیا جہاں یہ بتایا گیا کہ بنی گالا میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے پولیس اہلکار بھی تعینات ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ مسلح اہلکاروں کو پی ٹی آئی سربراہ کی رہائش گاہ پر غیر قانونی طور پر تعینات کیا گیا جو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا باعث بن سکتا ہے۔خط میں کہا گیا کہ ’لہذا کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی ہے کہ مذکورہ بالا محکموں کی متعلقہ کمانڈ سے ان مسلح اہلکاروں کو وفاقی دارالحکومت کی حدود سے نکالنے کے لیے رابطہ کیا جائے۔دریں اثنا ایک پولیس افسر نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے خیبر پختونخوا پولیس کے ایک دستے کو روک لیا جو ایک صوبائی رکن اسمبلی کے ساتھ بنی گالا کی جانب جا رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ جب معاملہ ان کے علم میں لایا گیا تو کئی سینئر پولیس اہلکار جائے وقوع پر پہنچے۔انہوں نے کہا کہ انکوائری سے معلوم ہوا کہ خیبر پختونخوا پولیس کی اس نفری کو پی ٹی آئی چیئرمین کی سیکورٹی بڑھانے کے لیے لایا جا رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے قانونی کارروائی سے خبردار کیے جانے کے بعد خیبر پختونخوا پولیس کا دستہ اسلام آباد سے واپس پشاور کے لیے روانہ ہوا۔


