بلوچستان میں بارش اور سیلاب میں گیس، بجلی، موبائل فون، انٹرنیٹ سڑکیں بند ہوجاتی ہیں، نیشنل پارٹی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ نجی اور نیم سرکاری اداروں کی کارکردگی بھی ناقص اور انفرا اسٹرکچر انتہائی کمزور ہے، جب بھی دریائے بولان سے سیلابی پانی گزرتا ہے بلوچستان کو گیس سپلائی کرنے والا پائپ لائن پانی میں بہہ جاتی ہے اور بلوچستان میں ہفتوں تک گیس سپلائی معطل ہوجاتا ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ متاثرہ پائپ لائن کو مرمت کرنے کے بعد دوبارہ ایسی جگہ ندی کے اندر ہی رکھا جاتا ہے تاکہ دوبارہ آنے والا سیلابی ریلہ اسے دوبارہ ناکارہ بنا دے اور افسران کا کاروبار چلتا رہے اور بلوچستان کو گیس کی فراہمی معطل ہو۔ پوری دنیا میں ندی نالوں سے گیس پائپ لائن گزارنے کے لیے مضبوط پلر ستون استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ یہاں ندی کے اندر مٹی میں پائپ دفن کیے جاتے ہیں۔ پارٹی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسی طرح کیسکو کے انفرا اسٹرکچر کی صورتحال بھی انتہائی کمزور اور ناقص ہے، ہوا چلتے یا بارش ہوتے ہی بجلی کی سپلائی معطل ہو جاتی ہے۔ سیلاب کے دوران ان کے شکستہ کھمبے تیز بارش اور ہوا کے چلنے سے فوراً زمین بوس ہوجاتے ہیں اور پھر کئی ہفتوں تک بجلی بند اور عوام کا جینا دوبھر ہوجاتا ہے۔ پی ٹی سی ایل اور موبائل کمپنیوں کا بھی یہی حال ہے، بارش اور سیلاب میں موبائل فون اور انٹرنیٹ بند ہوجاتے ہیں یہ دنیا اور مہذب قوموں کے لیے حیرت کا مقام ہے کہ بارش اور سیلاب میں گیس، بجلی، موبائل فون، انٹرنیٹ سڑکیں بند ہوجاتی ہیں۔ پارٹی بیان میں بلوچستان میں نیشنل ہائی وے کی انفرا اسٹرکچر کو عارضی اور غیر معیاری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ این ایچ اے ناقص سڑکیں پل سیلاب میں بہہ جانے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انجینئرنگ کے ضابطوں کو یا تو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے، یا پھر کرپشن کی بدولت سڑکوں اور پلوں کا معیار انتہائی ناقص ہے۔ پارٹی بیان میں مذکورہ کمپنیوں اور اداروں کو کہا گیا کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر اور معیاری بنائیں بلوچستان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کریں۔ نیشنل پارٹی نے بیان میں مزید کہا کہ بلوچستان بھر میں بجلی نہ ہونے سے عوام کو پینے کا پانی میسر نہیں، گیس سپلائی کی بندش سے لوگوں کے چولہے بند ہوگئے ہیں، سڑکوں کی بندش سے کھانے پینے کے اشیا کی کھپت پیدا ہوکر قیمتیں پانچ گنا بڑھ گئی ہیں، جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی، کیسکو، این ایچ اے روایتی بیانات سے کام لے رہے ہیں، جو ناقابل قبول ہے۔


