آفت پر سیاست کا فن

تحریک: نصیر بلوچ
روم جل رہا تھا اور نیرو چین کی بانسری بجا رہا تھا۔ روم کے شہنشاہ نیرو کے بارے میں یہ ضرب المثل مشہور ہے۔ روم کو آگ لگانے کا الزام بھی نیرو کو ہی دیا جاتا ہے اور یہ کہ اس نے ایسا جان بوجھ کر کیا تھا۔ نیرو کو تاریخ کے ایک ایسے سفاک حکمران کے طور پر جانا جاتا ہے جس نے اپنی ماں، سوتیلے بھائی اور بیویوں کو قتل کرایا اور اپنے دربار میں موجود خواجہ سراؤں سے شادیاں کیں۔
سنہ 64 عیسوی میں روم جل کر راکھ ہوگیا تھا۔ افواہیں یہ تھیں کہ سلطنت کے شہنشاہ نیرو نے خود یہ آگ لگوائی تھی اور بعد میں یہ کہا جانے لگا کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ آج کے دور یہ ایک مشہور ضرب المثال بن چکا ہے۔
آگ کے واقعے کے بارے میں تاریح داں ششما ملک کا کہنا ہے کہ دوسری اور تیسری صدی میں کم از کم دو تاریخ داں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نیرو نے خود روم میں آگ لگوائی تھی تاکہ اس کی تعمیر نو کی جا سکے۔ نیرو اپنا مشہور گولڈن ہاؤس تعمیر کرنا چاہتا تھا۔
لیکن بعض تاریخ داں نیرو کے حق میں یہ دلیل استعمال کرتے ہیں کہ یہ آگ اس نے نہیں لگوائی تھی کیوں کہ اس کا اپنا محل اس آگ کی زد میں آگیا تھا۔ پی ٹی آئی کے سرکردہ لیڈر شوکت ترین کے آئی ایم ایف مخالف آڈیو نے میڈیا میں تہلکہ مچادیا ہے۔ جس میں وہ واضح طور پر یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ ریاست کو خطرہ لاحق ہے تو ہونے دو۔ یعنی ریاست چاہئے جس نہج پر پہنچ جائے ہمیں کوئی سروکار نہیں بس عمران خان صاحب کرسی پر براجمان رہیں۔ اس آڈیو سے پی ٹی آئی کا صادق و امین کا پھانڈا پھوٹ چکا ہے۔ یقیناً انکے سیاسی مداح اب بھی یہ اعتراف کرنے کو تیار نہیں ہوں گے وہ اسے سیاسی گھٹ جوڑ کا نام دیں گے۔ اس آڈیو سے پی ٹی آئی کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ اسے دو قومی نظریہ نہ کہیں تو اور کیا نام دیں ریاست کے چہیتے پارٹی کے لیڈر ریاست کو سرِعام تباہ کرنگ کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں لیکن انکے خلاف قانون حرکت میں نہیں آتا جبکہ ایک کتاب دوست بلوچ محض انقلابی کتابیں پڑھنے کی وجہ سے غائب کردیا جاتا ہے۔
سیلاب زدگان کو جو حکومتی امداد احساس پرگروام کے توسط سے مل رہی ہے ان میں ناجائز کٹوتی کی جارہی ہے۔ یہ مسلہ کسی ایک ضلع کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا یہی حال ہے بالخصوص بلوچستان میں فلڈ ریلیف فنڈ جو پچیس ہزار (25000) ہر ایک خاندان کے سربراہ کے متعین ہیں اس میں سے پانچ ہزار سے زیادہ کٹوتی کی جارہی ہے۔ باقی دور دراز علاقوں سے احساس سینٹر تک آنے کا خرچہ نکال کر کتنا بچتا ہوگا؟ حکومت کو چاہئے کہ تمام صوبوں کے حکومت کو متنبہ کریں کہ ریلیف فنڈ میں ناجائز کٹوتی کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔ زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور امدادی کاموں کو تیز تر بنانے کے لئے بلوچستان حکومت تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ایک کروڑ پچیس لاکھ دی گئی ہے۔ ہر ضلع کے ڈی سی کو یہ کثیر رقم بہم پہنچائی گئی ہے۔ لیکن کیا واقعی یہ رقم امدادی کاموں میں صرف ہوئے ہیں یا پھر معمول کی طرح ہڑپ کئے گئے ہیں۔بہرحال گراؤنڈ میں کوئی کام موجود نہیں جبکہ سیلاب زدگان امداد کے منتظر ہیں تاحال مستحقین کو امداد نہیں پہنچائی گئی ہے۔ بلوچستان میں اپوزیشن اور حکومت ایک پیج پر ہیں باقی ماندہ اراکین کو اگر وقت ملتا ہے ایک کمزور تنقیدی بیان داغ دیتے ہیں۔ اس لوٹ مار میں اپوزیشن برابر کے شریک ہیں اسکا واضح مثال انکی گہری خاموشی ہے۔ آفت پر سیاست کا فن تو کوئی وفاق سے سیکھے ایک طرف سیلاب زدگان کی امداد کے لئے عوام سے اپیل کی جاتی ہے تو دوسری طرف صورتحال کو بالائے تاک رکھ کر پولیٹیکل وکٹیمائزیشن میں مصروفِ عمل ہیں۔ سب کو سیاسی اختلافات کو بالائے تاک رکھ کر سیلاب زدگان کی مدد کرنی چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں