بلوچستان میں لاکھوں لوگ بے گھر، ہزاروں لوگ ایک وقت کی روٹی سے محروم ہیں،حاجی لشکری
کوئٹہ (انتخاب نیوز) سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کی سربراہی میں بلوچستان پیس فورم نے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیوں کا آغاز کردیا، بھاگ ناڑی کے متاثرین کیلئے ادویات روانہ کردی گئیں، گزشتہ روز نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کی قیادت میں رضا کاروں نے بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثرہ کوئٹہ کے نواں کلی، ہنہ اوڑک، کلی ناصران اور سریاب کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے نقصانات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان ایک بہت بڑے بحران سے گزر رہا ہے لاکھوں لوگ بے گھر، ہزاروں لوگ ایک وقت کی روٹی سے محروم ہیں، ایسے میں ضرورت اس ہے کہ مخیر حضرات ان تک امدادی سامان پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک آباد لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ مشکلات کا شکار لوگوں کو اس پریشانی سے نجات دلائی جائے اور یہ لوگ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو اس وقت امداد کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے سیلاب متاثرین کیلئے ادویات و امدادی سامان ارسال کرنے والے تمام مخیر حضرات اور شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ دور دراز سے بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے دکھ ودرد میں شریک ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مخیر حضرات اور رضا کارجو اس پریشانی میں اپنے لوگوں کے غم میں شریک ہورہے ہیں یہ حوصلہ افزاء ہے اگر ہم متحد و منظم ہوکر ایک دوسرے کیساتھ تعاون کریں گے تو یقیناً ہم اس بہت بڑے بحران سے نکل کر ایک نئے دور کا آغاز کرسکیں گے۔ دریں اثناء بلوچستان پیس فورم کے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان پیس فورم نے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے اس سلسلے میں جمعرات کو وبائی امراض سے متاثرہ علاقے بھاگ ناڑی کے متاثرین کیلئے ادویات روانہ کردی گئیں جبکہ دیگر اضلاع کے متاثرین کیلئے بھی ایک دو روز میں ادویات روانہ کردی جائیں گی اس سلسلے میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رضا کاروں کی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئیں ہیں، بیان میں کہا گیا ہے کہ نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی امدادی سرگرمیوں کی خود نگرانی کرتے ہوئے ڈونرز اور متاثرہ علاقوں کے لوگوں سے رابطے میں ہیں۔


