خضدار، اوباش لڑکوں کی وجہ سے طالبات ذہنی دباؤ کا شکار، عوامی حلقوں میں تشویش
خضدار (انتخاب نیوز) شہر میں اوباش اور لوفر لڑکوں کی وجہ سے دینی مدارس، اسکول کالج یونیورسٹی کی طالبات ذہنی دباؤ کا شکار ہونے لگیں۔ ایک ایک موٹر سائیکل پر تین تین لڑکے منہ میں پان دبائے زناٹے سے گزرتے وقت طالبات پر آوازیں کستے ہیں، دیکھا یہ گیا ہے کہ اکثر انکا دوپٹہ بھی کھینچ لیا جاتا ہے۔ صبح اور چٹھی کے اوقات پر ہر ادارے کے سامنے طالبات کے سرپرست موجود ہوتے ہیں، لیکن سب سے زیادہ دشواری اور مشکلات کا سامنا ان طالبات کو ہوتا ہے، جو اپنے گھروں سے رکشے میں بیٹھ کر یا پیدل چل کر جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں تعلیمی سہولیات کی کمی یا مناسب ماحول کی عدم دستیابی سے کئی تعلیمی ادارے شام کے وقت طلبہ و طالبات کیلئے اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شام کے وقت تعلیم حاصل کرنے والے خصوصاً لڑکیوں کو آوارہ مزاج لڑکوں سے کافی پریشانی ہوتی ہے۔ چشم دید واقعات میں کئی لوفر لڑکوں کو DPS کی طالبات سے چھیڑ خانی کرتے دیکھا گیا ہے۔ اسکے علاوہ موٹر سائیکلوں میں زیادہ شور پیدا کرنے والے سائلنسر کے رواج میں بھی روز افزوں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ سے گزارش ہے کہ ان اوباش لڑکوں کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کریں، پولیس حکام سے بھی اپیل ہے کہ اس حوالے سے وہ اپنا کردار ادا کرے۔


