بلوچستان کوئی آسمانی تحفہ نہیں، بلوچوں کی وراثت، تاریخی جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ ہے،محمود اچکزئی کو معلوم ہونا چاہیے کہ بلوچ عوام نے اپنی زمین، اپنی شناخت اور اپنے سیاسی وجود کیلئے طویل تاریخی جدوجہد کی، میر جہانزیب مینگل
کوئٹہ (ویب ڈیسک) ایم پی اے وڈھ میر جہانزیب مینگل نے کہاہے کہ محمود خان اچکزئی نے اپنے حالیہ بیان میں بلوچستان کی تاریخ کو جس انداز میں تحفہ یا غیر سنجیدہ جملے کے طور پر پیش کیا گیا، وہ نہ صرف تاریخی حقائق سے عدم واقفیت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ایک پورے خطے کی سیاسی جدوجہد کو کم تر دکھانے کے مترادف ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان کوئی عطیہ نہیں تھا اور نہ ہی کسی مرکز یا ریاست نے اسے کسی پر احسان کے طور پر دیا۔ بلوچستان ایک تاریخی، سیاسی اور انتظامی حقیقت کے طور پر صدیوں سے موجود رہا ہے، جہاں قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ جیسے خطے اپنے اپنے ادوار میں داخلی نظم و نسق کے ساتھ موجود تھے۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ ان خطوں میں ریاستی و قبائلی نظام موجود تھا، جس کی بنیاد مقامی اختیار اور روایتی حکمرانی پر تھی۔ بعد کے سیاسی ادوار میں یہ خطے مختلف انتظامی تبدیلیوں سے گزرے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بلوچستان کسی اچانک آسمانی تحفے کا نتیجہ تھا۔ میرجہانزیب مینگل نے کہاکہ آسمانی تحفہ تو وہ تھا کہ تاریخی شکست کھانے کے بعد اور ایک سیٹ پر بھی محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر بنا اور اب ان آسمانی خلائی مخلوق کی ایماءپر اشتعال انگیزی پر بیان دے کر حق احسان ادا کر رہا ہے تاکہ بلوچوں اور پشتونوں کو دست گریبان کر کے خلائی مخلوق کا دیرینہ خواب پورا کرے۔ محمود اچکزئی کو معلوم ہونا چاہیے کہ بلوچ عوام نے اپنی زمین، اپنی شناخت اور اپنے سیاسی وجود کے لیے طویل تاریخی جدوجہد کی ہے، اور یہ جدوجہد کسی ایک دور یا کسی ایک فیصلے کی مرہون منت نہیں بلکہ ایک مسلسل تاریخی عمل ہے۔ یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بلوچستان کی تاریخ صرف ایک قوم یا ایک بیانیے تک محدود نہیں رہی۔ یہاں بلوچ، پشتون اور دیگر اقوام صدیوں سے آباد ہیں، اور ان کے درمیان تعلقات کبھی اتحاد، کبھی اختلاف مگر ہمیشہ جغرافیائی و سماجی حقیقت کے طور پر موجود رہے ہیں، لہٰذا اس خطے کی تاریخ کو سطحی جملوں یا سیاسی طنز کے ذریعے بیان کرنا نہ تو علمی دیانت ہے اور نہ ہی سیاسی بصیرت ہے۔


