اوستہ محمد، گنداخہ اور صحبت پور میں مختلف امراض میں مبتلا 2 بھائیوں سمیت 5 بچے چل بسے
جعفر آباد (انتخاب نیوز) جعفرآباد میں سیلاب کے بعد امراض کے وار جاری، اوستہ محمد، گنداخہ اور صحبت پور میں ایک ہی روز دو بھائیوں سمیت پانچ بچے انتقال کرگئے، محکمہ صحت اور ملیریا کنٹرول پروگرام کا نجی ادارہ امراض کی روک تھام میں ناکام، سرکاری اور نجی اسپتالوں میں رش بڑھ جانے سے مریض فرش پر تڑپنے لگے۔ جعفرآباد میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بے گھر ہونے والے سیلاب متاثرین حکومت اور انتظامیہ کی عدم توجہ کے باعث امراض کا شکار ہو کر جانیں گنوانے لگے۔ جعفرآباد اور صحبت پور اضلاع سمیت نصیرآباد ڈویژن میں ملیریا، گیسٹرو، ٹائیفائڈ اور جلدی امراض کی شرح میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے، یومیہ سیکڑوں افراد امراض کا شکار ہو کر اسپتالوں کا رخ کررہے ہیں، تاہم سرکاری اسپتالوں میں مناسب علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کے باعث سیلاب متاثرین نجی اسپتالوں میں علاج کروانے پر مجبور ہیں۔ اوستہ محمد کی یوسی خیرپور کے گاﺅں محمد بخش بلیدی میں نیاز احمد جتک کا چار سالہ بیٹا فیاض اور ایک سالہ ایان علی ملیریا کے باعث ایک ہی روز میں انتقال کرگئے جبکہ علی احمد جتک کی 9 ماہ کی بیٹی رشیدہ بھی ملیریا کے باعث دم توڑ گئی۔ تحصیل گنداخا کے گاﺅں غلام محمد جمالی میں گدا حسین سہریانی کا تین سالہ بیٹا علی بھی ملیریا کے باعث جان کی بازی ہار گیا، صحبت پور کے گوٹھ نیو رفیق کھوسہ میں بزگر بہادر علی کھوسہ کی جوانسالہ بیٹی آمنہ ملیریا میں مبتلا ہونے سے دم توڑ گئی۔ گلوبل فنڈ سے ملیریا کنٹرول پروگرام چلانے والا نجی ادارہ بی آر ایس پی اور محکمہ صحت ملیریا سمیت امراض کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں، ضلع بھر میں ملیریا کی ادویات بھی ناپید ہوچکی ہیں، سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ جانے سے بیڈ کم پڑ گئے۔ ڈی ایچ کیو ڈیرہ اللہ یار سمیت بی ایچ یوز اور رورل ہیلتھ سینٹرز میں سینکڑوں مریض فرش پر تڑپتے نظر آتے ہیں۔


