کالج آف نرسنگ پنجگور میں اسٹاف کی کمی اور دیگر مسائل کیخلاف طلبہ کا احتجاج
پنجگور (انتخاب نیوز) کالج آف نرسنگ پنجگور میں اسٹاف کی کمی کے خلاف نرسنگ کالج کے اسٹوڈنٹس کا کالج کے سامنے احتجاجی مظاہرہ و شدید نعرے بازی اسٹوڈنٹس کا کہنا ہے نرسنگ کالج میں اسٹاف نہ ہونے کی وجہ سے اسٹوڈنٹس کا سال ضائع ہورہا ہے، اسٹاف کی کمی کے حوالے سے کئی بار پرنسپل ڈپٹی کمشنر پنجگور سیکرٹری ہیلتھ کو وقتاً فوقتاً آگاہ کرتے رہے ہیں کہ ہمارا تعلیمی سال ضائع ہورہا ہے اور ہمیں امتحانات میں شدید مشکلات کا سامنا رہے گا لیکن آج تک ہمارے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ہے، مجبوراً آج ہم نے احتجاج کا راستہ اختیار کرکے روڈ پر نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالج میں نہ صرف اسٹاف کی کمی کا سامنا ہے بلکہ کلاس فورتھ نائب قاصد چوکیدار سوئپر میل فیمل کک آیا ودیگر کلرک کمپیوٹر آپریٹر ڈرائیور ملازم بھی نہیں ہے اسٹوڈنٹس سے لیکر اسٹاف کیلئے سابق سیکرٹری صحت نے کوسٹر بس دینے کا اعلان کیا تھا، اس پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے، جس کی وجہ سے اس مہنگائی میں اسٹوڈنٹس سے لیکر دیگر 5/6 ہزار روپے پرائیویٹ وین کو دینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہی ہے کہ اس وقت کالج آف نرسنگ پنجگور میں 59 اسٹوڈنٹس کلاس لے رہے ہیں جن کے کورس مکمل ہونے کے بعد پنجگور شعبہ میڈیکل میں نمایاں فرق آئے گی اور یہ فرق ٹیچنگ ہسپتال پنجگور و پچاس بڈڈ ہسپتال کے ساتھ پورے بلوچستان کیلئے بھی تبدیلی ثابت کرے گی اس دوران کالج آف نرسنگ پنجگور میں فرسٹ بیچ سیکنڈ بیچ کے اسٹوڈنٹس روزانہ سات مضامین پڑھ رہے ہیں لیکن اسٹاف کی کمی کی وجہ سے کالج کو پرنسپل و دیگر دو ٹیچر بہ مشکل چلا رہے ہیں مضامین کی عدم پڑھائی سے اسٹوڈنٹس اپنے آنے والے امتحانات میں کیا پیش کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مڈوائفر کو حکومت بلوچستان کی طرف سے مناسب اسکالر نہیں دی جارہی ہے صرف تین ہزار اسکالر کو لے کر ہم پانچ ہزار وین و دیگر ضروریات کو کیسے پورا کرسکتی ہیں۔ ڈاکٹر سے لیکر شعبہ صحت کے ہر کیٹگری کی تنخواہوں میں دن رات اضافہ ہوتا رہتا ہے لیکن ہمارے ساتھ سوتیلوں والا رویہ رکھا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہونگے۔


