امریکی سینیٹ کا پاکستان کے ایف16پروگرام کیلئے 45 کروڑ ڈالر کے معاہدے پر عدم اعتراض
واشنگٹن(انتخاب نیوز)امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ایف16پروگرام وسیع تر امریکا پاکستان دو طرفہ تعلقات کا ایک اہم حصہ ہے، جبکہ امریکی سینیٹ نے بھی اسلام آباد کے ساتھ 45 کروڑ ڈالر کے مجوزہ معاہدے پر اعتراض نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مجوزہ فروخت پاکستان کی اپنے F-16 بیڑے کو برقرار رکھتے ہوئے دہشت گردی کے موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو برقرار رکھے گی۔امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ مجوزہ فروخت اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں اور مستقبل کی ہنگامی کارروائیوں کی تیاری میں امریکا اور شراکت دار افواج کے ساتھ باہمی تعاون کو برقرار رکھے گا۔ایک روز قبل بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ امریکا پاکستان کو 45 کروڑ ڈالر کا ایف-16 سسٹینمنٹ پیکج فراہم کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ 30 روز کی لازمی نوٹس مدت کے دوران سینیٹ کی جانب سے معاہدے پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔خیال رہے کہ 7 ستمبر کو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ذریعے امریکی کانگریس کو بائیڈن انتظامیہ کے پاکستان کو فارن ملٹری سیلز (ایف ایم ایس) پروگرام کے تحت اس معاہدے کی پیشکش کے فیصلے کے بارے میں مطلع کیا۔سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رابرٹ مینینڈیز نے کچھ روز بعد 13 ستمبر کو سینیٹ کو بتایا اس طرح کے نوٹیفکیشن پر کانگریس کے پاس 30 روز ہیں جس کے دوران فروخت پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔واشنگٹن میں سفارتی ذرائع نے بتایا کہ کانگریس کو مجوزہ معاہدے کی مثبت طور پر منظوری کے لیے اقدام کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور 30 روز کی لازمی مدت کی تکمیل کے بعد معاہدے کو منظور شدہ سمجھا جائے گا۔جب کوئی معاہدہ کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں عام طور پر امریکی محکمہ دفاع کئی مہینوں بعد ٹھیکا جاری کرتا ہے جبکہ ڈیل کے لیے ڈیلیوری ٹائم لائن کا تعین دونوں حکومتیں کرتی ہیں۔


