ملاقاتوں میں کوئی غیر آئینی فرمائش یا مطالبہ نہیں کیا گیا،یک نکاتی ایجنڈا شفاف انتخابات کا مطالبہ رہا‘ تحریک انصاف
لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ ملاقاتوں میں کوئی غیر آئینی فرمائش یا مطالبہ نہیں کیا گیا بلکہ ہمیشہ یک نکاتی ایجنڈا رہا کہ اگر ملک کو دلدل سے باہر نکالنا ہے تو شفاف انتخابات کرا دئیے جائیں، بند کمروں کی بہت ساری باتیں ہوتی ہیں،ایک ایک ٹکڑے باہر نہ لائے جائیں، چار نومبر کو اسلام آباد پہنچ کر عمران خان اگلے روز آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے،ہم ڈیڈ لاک نہیں چاہتے،حکومت سے کہا تھاہماری نظر میں ایک معقول راستہ شفاف انتخابات ہیں اگر ان کے پاس کوئی راستہ ہے تو بتا دیں،حکومت موجود ہے ادارے کو پریس کانفرنس نہیں کرنی چاہیے تھی یا حکومت بتائے وہ اپنا بیانیہ بتانے سے قاصر ہے، یہ تاثر دینا ہم کسی ادارے کے درپے پر ہیں ساکھ کو نقصان پہنچنا چاہتے ہیں حقیقت کے برعکس ہے،فوج کے ادارے کے ذمہ داران کی ارشد شریف کے قتل کے معاملے پر اقوام متحدہ یا دیگر کسی بین الاقوامی باڈیز کے ماہرین سے تحقیقات کی بات انتہائی خوش آئند ہے،فوج سے نہیں حکومت سے مانگ رہے ہیں لیکن حکومت پاؤں پرتو کھڑی ہو، وہ دینے کے قابل نہیں اس لئے ان سے بات کرنا پڑتی ہے۔ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے اسد عمر، فواد چوہدری، حماد اظہر، شیریں مزاری، مسرت جمشید چیمہ اور دیگر کے ہمراہ 90شاہراہ قائد اعظم پر مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فیصل واڈا کوشو کا ز نوٹس دے کر جواب طلب کیا گیا ہے کیونکہ ہماری بڑی واضح پالیسی رہی ہے کہ ہمارے جتنے بھی احتجاج ہوئے وہ پر امن ہوئے ہیں۔ 2014ء کا ہمارا لانگ مارچ اور126 کے دن میں ایک گملا نہیں ٹوٹا، ہمارے جلسے ہوتے رہے ہیں وہ پر امن رہے ہیں۔ پچیس مئی کا جو قافلہ تھا اس پر اس وقت کی حکومت نے تشدد کیا، ہم تو پر امن تھے اور پوری طرح سے اپنا دفاع بھی نہیں کر سکے۔انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی بڑی واضح ہے کہ ہمارا مارچ پر امن ہے، قانون کے دائرے کے اندر ہوگا، آئین کے تقاضوں کا احترام کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ انہوں نے فیصل واڈا کی پریس کانفرنس صرف لوگوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش تھی کیونکہ ملک بھر سے لوگ لانگ مارچ کے لئے تیاری کر رہے ہیں اور بہت بڑی تعداد میں کارکنان کے علاوہ عوام بھی عمران خان کے بیانیے کو ذہنی طو رپر قبول کر چکے ہیں اور عمران خان کی بات لوگوں کے دل میں اتر چکی ہے، انہیں بھٹکانے اور خوف پیدا کرنے کے لئے یہ ایک مذموم کوشش کی گئی تھی جو ہماری نظر میں ناکام رہی ہے کیونکہ اس کا سارا پول کھل گیا۔فیصل واڈا کی پریس کانفرنس کے بعد کیمرے سیدھے لندن پہنچ جاتے ہیں اورکڑی سے کڑی مل گئی اور سارے پول کھل گئے اس کے پیچھے کون سی قوت تھی کیا سوچ کارفرما تھی سب نمایاں ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے اپیل کرنا چاہوں گاکہ وہ بھرپور طریقے سے عمران خان کے لانگ مارچ میں شامل ہوں، یہ مارچ وہ پر امن ہوگا حقیقی آزادی کی جستجو ہے اوراس کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کے ذمہ داران کی جانب سے پریس کانفرنس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی اور کہا جارہا ہے کہ سیاسی عدم استحکام قبول نہیں ہوگا ہم تو سیاسی عدم استحکام کے خواہاں نہیں ہے، اگر گزشتہ چھ ماہ کے ایونٹس ہیں دیکھیں تو واضح ہو جائے گا کہ سیاسی عدم استحکام اس دن شروع ہوگا جس دن تحریک عدم اعتماد کی منصوبہ بندی شروع ہوئی او رکڑی سے کڑی ملتی گئی،سیاست اور معیشت پر اثر پڑا وہ سب کے سامنے ہیں،عدم استحکام ہم نے پیدا نہیں کیا اس کا حل پیش کر رہے ہیں،ملک میں عدم استحکام کی کیفیت ہے جمہوری اور آئینی حل پیش کر رہے ہیں اور وہ صاف اور شفاف عام انتخابات ہیں، اس سے ملک میں سیاسی استحکام آئے جائے گااور گو مگو کی صورتحال ختم ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سائفر کو من گھڑت بیانیہ کہا گیا لیکن یہ ایک حقیقت تھی اور ہے، کامرہ میں اس کا تذکر ہ ہوا،میں بھی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے، وہاں سائفر کا ذکر آیا ہے اور اس کا سنجیدگی کا ذکر آیا، یہ کہا گیا کہ یہ سنجیدہ مسئلہ ہے اس پر ڈیماش ہونا چاہیے۔ اس کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس بلائے گئے۔ اگر وہ حقیقت نہیں تھی اگر وہ من گھڑت کہانی تھی تو پھر ڈیماش کی ضرورت کیا تھی،یہ کہنے کی ضرور ت تھی مداخلت ہوئی ہے اس کا تذکرہ ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ یہ کہا گیا کہ سفیر کے بیانیے سے سیاسی مقاصد کے لئے حاصل کرنے کیلئے کوشش کی گئی، سفیر نے دیانتداری سے جونشست ہوئی اس کو ریکارڈ کیااور سائفر اس کی ترجمانی کر رہا ہے اور اس کا خلاصہ ہے، سفیر کہہ رہا ہے چار دہائیوں کے سفارتی تجربے میں اس قسم کی زبان استعمال ہوتے نہیں دیکھی،اس میں دھمکی تھی ایسی زبان استعمال کی گئی جو سفارتی نہیں تھی جو ناقابل قبول تھی،سفیر کی رائے میں وہ گفتگو اس نوعیت کی تھی کہ ڈیماش کی سفارشات دی تھیں۔ نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں اس کو زیر بحث لایا گیا اور اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا ڈیماش کیا جائے۔ سائفر بیانیہ گھڑا گیا یہ حقیقت کے برعکس ہے، ہم نے کوئی ایسا بیانیہ نہ گھڑا ہے نہ گھڑیں گے جس سے پاکستان کے کسی ملک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے بحیثیت ایک جماعت اداروں کا احترام کیا ہے ان کا دفاع کیا ہے اورہر موقع پر کیا ہے، ہم سمجھتے ہیں اداروں کے مضبوط ہونے سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے اورملک مضبوط ہوتا ہے، یہ تاثر دینا ہم کسی ادارے کے درپے پر ہیں ساکھ کو نقصان پہنچنا چاہتے ہیں حقیقت کے برعکس ہے۔ عمران خان کا موقف رہا ہے اور انہوں نے دنیا کے تجربات کا حولہ دیا کہ ایک مضبوط فوج پاکستان کی ضرورت ہے، ہمیں استحکام کے لئے ضرور ت ہے اور ہم نے ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا ہے، فوج نے دہشتگردی سے محفوظ کرنے میں کردار ادا کیا ہے، کورونا کا چیلنج آیا تو پاک فوج کی کوآپریشن تھی اس کی تعریف کی ہے، سیلاب میں ان کی تعریف کی ہے۔ہم نے ہرگز خلیج پید اکرنے کی کوشش نہیں کی، خلیج چاہتے تھے نہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی قابل ذکر بات ہے کہ یہاں پر گزشتہ دنوں ایک نشست ہوئی جوگفتگو ہوئی اس میں نعرے بازئی ہوئی اس کا نوٹس لیا جانا چاہیے تھا وہ لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میٹنگز ہوتی ہیں، اس کا مقصد کیا تھا،کیا ہماری غیر آئینی فرمائش،کوئی ہم نے ایسی مطالبہ کیا جو جمہوری قدروں کے برعکس ہو،آئین کے برعکس ہو،ہرگز نہیں، ہم بارہا کہتے رہے ایک نکاتی ایجنڈا ہے کہ ملک کو دلدل سے نکالنا ہے تو شفاف انتخابات کرا دئیے جائیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میری نظر میں پریس کانفرنس بنتی نہیں تھی، وہ کہتے ہیں ہم حکومت کے ذیلی ادارے ہیں تو پھر حکومت تو موجود ہے، وزیر خارجہ،داخلہ،خزانہ موجود ہیں، وزیر دفاع موجود ہیں، وہ آتے اور حکومت کا بیانیہ پیش کرتے، سہارا کیوں لینا پڑا ان کو آگے کیوں آنا پڑا،حکومت دفاع کرنے سے قاصر ہے کترا رہی تھی،حکومت کے بیانیہ پیش کر رہے تھے، وہ مطمئن نہیں تھے تو ایسا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان شا اللہ آج جمعہ کے روز لاہور سے روانہ ہوں گے،چار نومبر اسلام آباد پہنچیں گے اوراگلے روز عمران خان خطاب کریں گے اور بات آگے شروع ہو گی۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوئی خواہش غیر آئینی تھی نہ ہے،ہم آئین کے رہتے ہوئے کردار ادا کر رہے ہیں،ہم سیاسی جماعت ہیں سیاسی جماعت کا حلف ہے اس کے پابندہیں، آئین سے ماورا سے کوئی مطالبہ کیا نہ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی ضرورت کیا ہے،ہم کسی ڈیڈ لاک کے حامی نہیں،سیاستدان ہمیشہ راستہ نکالتا ہے راستہ تلاش کرتا ہے جمود اور ڈیڈ لاک کو توڑتا ہے کہ راستہ نکلے، حکومت سے کہا تھاکہ ہماری نظر میں ایک معقول راستہ شفاف انتخابات ہیں اگر آپ تیار ہیں تو ہم گفتگو کرنے کے لئے تیار ہیں، انتخابات کی شفافیت کے لئے قانون سازی درکار ہے، الیکشن کمیشن کو فعال بنانے اور شفاف بنانے کے لئے نوک پلک کی ضرورت ہے تو ہم تیار ہیں،الیکٹرول ریفارمز کے لئے تیار ہیں، ڈیڈ لاک توڑنے کا واحد راستہ عام انتخابات ہیں، حکومت کے پاس کوئی اور راستہ ہے وہ بتائے، ہمیں تو کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا، یہ ملک کو دلدل کے اندر دھکیلتے چلے جارہے ہیں۔ کہا گیا کہ ڈار صاحب آ گئے ہیں لیکن روپیہ پھر گر گیا ہے، سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع اتفاق رائے سے ہوئی، اس وقت افغانستان کے معاملات چل رہے تھے اور ہم تسلسل چاہتے تھے، کچھ لوگوں کو اعتراض تھا لیکن وہ آج وکالت کرتے ہیں، معاملہ اسمبلی میں گیا تو بڑھ چڑھ کر ووٹ دئیے،پارلیمانی جماعتوں نے مل کر توسیع دی۔ اسد عمر نے کہا کہ عمران خان اور تحریک انصاف اداروں کے بارے میں ان کی لیڈر شپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں اور اداروں کا کردار کیا ہونا چاہیے، عمران خان کے ذہن میں ان کا کردار ہے، ایک دفعہ نہیں اس بات کا اظہار کئی بار کر چکے ہیں کہ پاکستان کی جغرافیائی صورتحال ہے جو بیرونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے مضبوط فوج ہمارا اہم ترین حصہ ہے، عمران خان نے کبھی لندن اور واشنگٹن جا کر اپنے فوج کو بدنام کرنے کی کوشش نہیں کی، عمران خان نے کبھی بھارت کے وزیر اعظم سے چھپ کر بات نہیں کی۔ عمران خان اس فوج کو اس قوم کو آن کرتے ہیں،کیا عمران خان فوج کے ہر فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں یا بعض ایسے فیصلے ہیں یا ایسے کوئی ایسے ایکشن ہیں جن پر تنقید کرتے ہیں بالکل کرتے یں ہ ان کا آئینی حق ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمنے کبھی ایسی بات نہیں کی جس سے ادارہ کمزور ہو اور ہماری بڑی واضح لائن ہے، فوج ایک اہم ادارہ ہے اس کی ساکھ قومی سلامتی کے لئے اہم جزو ہے،کیا پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی لیڈر جس کے پیچھے کروڑوں لوگ کھڑے ہوں اس کی ساکھ اس کا رتبہ ملک کی واحدانیت اور سلامتی کے لئے اہم نہیں؟، دونوں طرف سوچنے کی ضرورت ضرور ہو گی۔انہوں نے کہا کہ بہت اچھی بات ہے ملک کے لئے بہت اچھی خبر ہے فوج آئینی کردار کے اندر رہنا چاہتی ہے۔ بتایا جائے ملاقاتوں کے اندر غیر آئینی مطالبہ کیا گیا، عام انتخابات کا مطالبہ ایک بار نہیں ہزار بار دہرا چکے ہیں کیونکہ ملک میں اس وقت شدید ترین سیاسی بحران ہے جو عدم عدم اعتماد کی تحریک کے بعد پیدا ہوا ہے۔ خطرناک معاشی بحران پیدا ہوا ہے سماجی بحران پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے اس کا حل صرف عام انتخابات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی دورائے نہیں پاک فوج کا ادارہ سیاسی نظام پر اثر رکھتے ہیں، ہم نے کہا ہے کہ اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ ملک بحران سے نکل سکے۔ جوباتیں بند کمرے میں ہو رہی ہیں عمران خان وہ ٹی وی یا جلسوں میں نہ کرتے ہوں۔انہوں نے کہا کہ فوج کے ذمہ داران نے درست کہاہے کہ قومی سلامتی کی صرف فوج ذمہ دار نہیں ہو سکتی اگر قوم ساتھ کھڑی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ یقین ہے کہ اس ملک کے اندر تمام لوگوں کے لئے ایک قانون ہوگا،قانون کی حکمرانی نہیں ہو گی خاص طور پر طاقتور عہدوں پر کرپشن پر قابو نہیں پایا جا سکتا تو ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے ذمہ داران نے کہا ہے کہ پاکستان نفرتوں کی وجہ سے ٹوٹا تھا کیا یہ سوچا گیا یہ نفرتیں پیدا کیوں ہوئیں کہ پاکستان دولخت ہوا۔ عوام کی خواہشات پر عمل نہیں کیا گیا۔ عوام کی اکثریت کی رائے کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ فیصلے جمہوریت کی بجائے طاقت کی بنیاد پر کرنے کی کوشش کی گئی اور نفرتوں نے جنم لیا۔ جب تک پاکستان کے اندر عوام اور ریاستی نظام میں اعتماد کی فضاء ہیکوئی پاکستان کو ٹھیس نہیں پہنچاسکتا،جو خرابی اور کمزوری پیدا کر سکتی ہے کہ عوام کو نظر آئے پاکستان کی عوام کی رائے نہیں سنی جارہی اور فیصلے کوئی اور یابیرونی طاقتیں کر رہی ہیں تو پھرمسائل پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئینی حد کے اندر رہنے کی بات انتہائی خوش آئند ہے، راناثنا اللہ پی ڈی ایم سن رہی ہے، اکثریت کی رائے ہے،افواج پاکستان کی رائے بھی ہے کہ کہ لانگ مارچ کرنے کا عوام کے پاس حق موجود ہے اور حکومت کے جوفیصلے ہوں گے وہ آئینی حق کے مطابق ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف جوکرے گی آئین قانون کے دائرے کے اندر رہ کر کرے گی،سپریم کورٹ نے تین جگہیں مختص کی ہے،پریڈ گراؤنڈ،ایف نائن پاک اورایچ نائن گراؤنڈ، ہم ایچ نائن گراؤنڈ کی درخواست دے چکے ہیں، ہمیں ابھی تک اجازت نہیں ملی اگر آج تک اجازت نہ ملی تو عدالت آئینی حق منوائیں گے، ہمیں اسلام آباد جانے سے روکنے کا جواز ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کی غیر معینہ مدت کی گنجائش ہی موجود نہیں، بات چیت ضرور ہوئی تھی، کس تناظر مین ہوئی یہ دیکھنے کی ضرورت ہے، ہم نے کہا کہ ملک انتشار کی طرف جانے والا ہے۔پبلک میں بات ہوئی کہ پی ڈی ایم والے کہہ رہے ہیں ہم توسیع دیں گے، عمران خان نے کہا کہ معاملہ توسیع کا ہے تو ہم بھی توسیع دے سکتے ہیں لیکن ملک کو انتشار میں نہ جانے دیا، بند کمروں کی بہت ساری ہوتی ہیں،ایک ایک ٹکڑے باہر نہ لائے جائیں، شروع کرینگے تو انہوں نے آگے باتیں لے کر آ جانی ہیں۔ہم نے چار سے شروع ہو کر دھرنا کی اجازت مانگی ہے،درخواست میں اختتامی تاریخ نہیں لکھی۔فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی فوج اس کی قیادت احترام اہم ہے،پاکستان کی جو جغرافیائی صورتحال ہے ہم فوج کے بغیر کیسے رہ سکتا ہے، فوج ہمارا عشق ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے فریم ورک طے کرنا ہے کہ پاکستان کو ایک جمہوری ملک ہے یا برما یا نارتھ کورا کے ماڈل پر چلنا ہے،آدھا تیتر اور آدھا بٹیر نہیں ہو سکتا، فوج کی لڈر شپ فوج کی عزت ضروری ہے سیاسی قیادت کی عزت بھی بہت ضروری ہے، عوام کے فیصلوں کے آگے سر تسلیم خم کرنا بہت ضروری ہے،لوگوں نے دو مرتبہ فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائفر کی تحقیقات کرائیں،صدر مملک سے بڑا کون سا عہدہ ہے اس نے کہا ہے کہ تحقیقات کرائیں،ہم حکومت میں تھے سپیکر نے لکھا تحقیقات ہونی چاہیے، سائفر ہے یا نہیں یاسازش گھڑی گئی ہے، تحقیقات کرائیں عوام کے سامنے رکھیں، کمیشن بنتے ہیں رپورٹ سامنے ہی نہیں آتی، طاقتور کمیشن بنے جو اس کی تحقیق کرے اور رپورت سامنے رکھے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف جوجو دھمکیاں ملیں وہ خفیہ نہیں تھیں، انہوں نے صدر مملکت کو لیٹر لکھا ہے،ارشد شریف کی فیملی کو دھمکیاں ہیں، وہ خیبر پختونخوا حکومت کے کہنے پر باہر نہیں گئے، باہر جا بھی نہیں رہے تھے، انہوں نے ویزا نہیں لیا، ان کے لئے ویزا لگوانا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ رانا ثنا اللہ نے ارشد شریف پر 16کیسز بنائے۔یہ کہا گیا کہ ہم نے میت لینے جانا ہے، کیوں نہیں وہاں جا سکے آپ شرم کر و۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ضمانت دی ورنہ انہیں جیل میں ڈلوا کر مروا دینا تھا،رانا ثنا اللہ کی تاریخ ہم سب کو پتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کو عمران خان نے کہا کہ تم چلے جاؤ لیکن انہوں نے جانے سے انکا رکر دیا،وہ اس وقت گئے جب انہیں پاکستان میں بولنے ہی نہیں دیا جارہا، ان پر پابندی لگ گئی تھی، وہ بولنے کے لئے باہر گیا وہ جان بچانے کے لئے باہر نہیں گیا۔ ادارے کی طرف سے تحقیقات کی بات خوش آئند ہے، یو این اور بین الاقوامی باڈیز کے ماہرین کو شامل کیا جانا چاہیے کہ وہ پاکستان سے جانے پر کیوں مجبور ہوئے، یہ نہیں کہ زیادہ تر لوگوں کو پتہ نہیں ہے یہ راز نہیں،اس میں تین ممالک کی بات ہے اس لئے انٹر نیشنل سطح کی تحقیقات بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک لانگ مارچ کا معاملہ ہے یہ ہماری سیاسی جدوجہد ہے یہ بنیادی حق ہے، اگرآپ احتجاج کا حق ختم کر دیتے ہیں تو یہاں جمہوریت نہیں ہے کوئی اور سسٹم لانا چاہتے ہیں،پاکستان کے لوگ کوئی اور فیصلہ کریں اور اشرافیہ کوئی اور فیصلہ کرے ایسا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف، شہباز شریف اورمریم کا کردار سب کو پتہ ہے، سب کو پتہ ہے یہ فوج کے کتنے سگے ہیں،وفاداری کا بھی سب کو پتہ ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان کی عوام کو فیصلے کرنے دیں، عوام جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں شخصی آزادیوں کے ساتھ کھڑے ہیں،مستقبل ایک جمہوری ملک کا ہے۔یہ نہیں ہوگا جو بات کرے گاہ وہ غائب ہو جائے گا مار دیا جائے گا، ہماری جدوجہد کا آخری فیز آج جمعہ سے شروع ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت منتخب ہو کر نہیں آئی آکشن سے آئی ہوئی ہے، آئین میں اس کا کوئی تصور نہیں ہے، ہم فوج سے نہیں حکومت سے مانگ رہے ہیں لیکن حکومت اپنے پاؤں پرکھڑی ہو، وہ دینے کے قابل نہیں ہیں پھر ان سے بات کرنا پڑتی ہے۔شیریں مزاری نے کہا کہ خدا را سیاستدانو ں کو بھی وہ حقوق دیں، آپ پانچ پانچ گھنٹے بولیں، عوام میں پریس کانفرنسز کرتے ہیں،سیاستدانوں پر تنقید کرتے ہیں کیا ہم قوم کے نمائندہ نہیں۔ آپ ہم پر تنقید کرتے ہیں تو پھر اس کا جواب سنیں۔حماد اظہرنے کہا کہ پوری بات کھولیں کیا بات ہو رہی تھی، ایسا نہیں کہ ہم مقابلے میں پڑیں۔ جمہوری روایا ت کو مضبوط کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان کو ہٹایا جارہا تھا عمران خان انتخابات کرانا چاہتے تھے لیکن انہیں روکا گیا،عمران خان اکیلا نہیں عوام اس کے پیچھے ہیں۔ عام انتخابات کرائیں جو بھی قیادت منتخب کریں اس کو تسلیم کر لیں گے۔ ادارے ہمارے ادارے ہیں،قیادت کا حق کس کو ہے یہ عوام پر چھوڑ دیں، تاریخ کا سب سے شاندار لانگ مارچ ہوگا اور پوری دنیا ایک زندہ قوم کا نظارہ دیکھے گی۔


