لسبیلہ، سرکاری اسکولوں کی خستہ حال عمارتیں، محکمے کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے ڈکار لیے گئے

اوتھل (انتخاب نیوز) لسبیلہ کے سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار، کسی بھی وقت حادثہ پیش آسکتا ہے۔محکمہ بی اینڈ آر لسبیلہ کے ایگزیکٹیو انجینئر بلڈنگ کی ملی بھگت سے اسکولوں کی مرمت کیلئے آنیوالے دو کروڑ کی رقم ٹھیکیدار ڈکارنے لگے،سرکاری اسکولوں کی عمارتیں بروقت مرمت نہ ہونے سے ہزاروں بچوں کی زندگی دا پر لگ گئی۔تفصیلات کیمطابق حکومت کیجانب سے لسبیلہ کے اسکولوں کی ریپیرنگ کی مد میں فراہم کیئے گئے 2 کروڑ کی خطیر رقم محکمہ بی اینڈ آر کی ملی بھگت سے کرپشن کی نظر ہونے لگی۔ ایگزیکٹیو انجینئرنگ بلڈنگ لسبیلہ نے اپنی کمیشن کی خاطر ٹھیکیداروں کو ایڈوانس پیمنٹ کردی،سرکاری اسکولوں کی تاحال ریپیرنگ شروع نہ ہوسکی،محکمہ تعلیم کی جانب سے ایگزیکٹیو انجینئرنگ بلڈنگ لسبیلہ کو بارہا یاد دہانی کروائی گئی لیکن موصوف نہ تو ٹھکیدروں کی لسٹ محکمہ ایجوکیشن لسبیلہ کو فراہم کررہے ہیں اور نہ ہی کام شروع کروارہے ہیں، ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں،واضع رہے کہ لسبیلہ میں تعینات ایگزیکٹیو انجینئرنگ بلڈنگ لسبیلہ کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے جتنے بھی کام ہیں وہ ادھورے پڑے ہیں اور کمیشن کی خاطر ٹھیکیداروں کو ایڈوانس پیمنٹ کردی جاتی ہے،BRC اوتھل میں بھی بی اینڈ آر بلڈنگ لسبیلہ کے تمام کام نامکمل ہیں اور ٹھیکیدار اپنی پیمنٹ لیکر منظر سے غائب ہیں،لسبیلہ کے عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ بی اینڈ آر میں ہونیوالی کرپشن کا باریک بینی سے انکوائری کی جائے اور ایگزیکٹیو انجینئرنگ بلڈنگ لسبیلہ کا فوری تبادلہ کرکے انکی جگہ کسی ایماندار افسر کو تعینات کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں