عامیانہ دعووں کے ذریعے پر افتخار کارکردگی کو جھٹلایا نہیں جاسکتا، بی پی ایل اے یکجہتی پینل

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (یکجہتی پینل) کے نامزد امیدوار برائے صدارت اور ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر طارق بلوچ اور جنرل سیکرٹری پروفیسر رازق الفت کی سربراہی میں وفود نے کانک، کردگاپ اور خانوزئی گرلز و بوائز کالجز کا دورہ کیا۔ اس موقع پر قائدین نے یکجہتی پینل کے انتخابی منشور کو معروضی حالات کے تناظر میں قابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یکجہتی کی حالیہ کامیاب کابینہ گواہ ہے کہ پروفیسر برادری کی باہمی مشاورت اور اجتماعی دانش کی بدولت ہی ہم نے قلیل عرصے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ چارٹر آف ڈیمانڈ کو حکام بالا سے منوانے کیساتھ ساتھ ان کے بہترین نتائج تمام برادری کے سامنے ہیں کوئی سورج کو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے چھپا نہیں سکتا ہے۔ پروفیسر برادری کو دھوکہ دینے والے یہ بھول رہے ہیں کہ بلوچستان بھر کے پروفیسرز مضبوط حافظہ اور مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ پروفیسر طارق بلوچ نے کہا کہ یکجہتی کے انتخابی امیدوار سنجیدگی اور وقار کے ساتھ انتخابی سلسلے کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگر کسی کو جھوٹ اور دھوکہ دہی سے اپنی شخصیت نکھارنے کا شوق ہے تو بے شک پورا کرے لیکن عامیانہ دعوے اور بے بنیاد اعتراضات سے کوئی شخص اپنا قد مزید گھٹا تو سکتا ہے لیکن ٹھوس اور پر افتخار کارکردگی کو جھٹلا نہیں سکتا۔ انتخابی مہم کے سلسلے میں یکجہتی پینل کے نامزد امیدوار برائے جنرل سیکرٹری اور ملازم مزدور تحریک کے سرگرم کارکن پروفیسر رازق الفت کاکڑ نے کہا کہ جس طرح سے بیوگا تحریک میں ہماری برادری کے معزز مرد و خواتین پروفیسرز نے لاٹھی چارج اور بدترین آنسو گیس شیلنگ کا سامنا کرتے ہوئے اپنی تنخواہوں میں غیرت مند طریقے سے اضافہ کیا ہے وگرنہ بعض بزدل اور ڈرپوک عناصر اس دوران وٹس ایپ اور فیس بک پر اپنا بھیانک کردار سرانجام دے رہے تھے۔  بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن نے بیوگا تحریک میں جس طرح ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا اسی طرح ضرورت پڑنے پر ہمارے عزم اور پایہ استقامت میں کوئی لغزش دیکھنے کو نہیں ملے گی اور ہم ملازموں کے جائز قانونی اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے ہر موڑ اور مقام پر حاضر ہوں گے۔ یکجہتی پینل کے رہنماو¿ں نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کا منشور اور مطالبات جائز اور قانونی ہیں۔ حکام بالا اگر ضروری سمجھے تو ان سبھی کے حل کے راستے بھی بتا سکتے ہیں شرط صرف یہ ہے کہ مسائل حل کرنے کی نیت ہو۔ پروفیسر رازق الفت نے کہا کہ 2019ءکے بعد تعینات دیگر ملازمین کی طرح کالج اساتذہ کی بھی ٹائم اسکیل پروموشن کا خاتمہ بلاجواز اور بلوچستان میں تعلیمی نظام کو مزید تباہی کی طرف لے جانے کی کوشش ہے اس کی شدید مزاحمت جاری ہے ابھی حال ہی میں بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی سابقہ کامیاب کابینہ اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں اس نکتے کو بھی لے کر آگے بڑھی ہے اور کامیابی کے ساتھ پہلے مرحلے میں اس کی بحالی کو جائز اور قانونی مطالبے کے طور پر منواچکی ہے۔ انتخابات جیتنے کے ساتھ ہی نئے تعینات شدہ لیکچررز اور لائبریرین کے مسائل کو دور رس اقدامات کے طور پر سر فہرست رکھا گیا ہے۔ پروفیسر طارق بلوچ اور پروفیسر رازق الفت نے متخلف انتخابی مہم کے دوران اس بات کو واضح کیا کہ ٹائم اسکیل پر وار کرنے والوں نے اس سے قبل بھی کئی بار اس کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بی پی ایل اے یکجہتی پینل کے رہنماو¿ں نے اس بات پر بھی شدید حیرت کا اظہار کیا ہے کہ جو شخص تمام زندگی ٹائم اسکیل کا مخالف رہا ہے آج اپنی واضح شکست اور ناکامی کی وجہ سے اپنی انتخابی مہم ہی اس پر چلا رہا ہے جس سے اس کے پوشیدہ عزائم مزید کھل کر سامنے آچکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں