اداکار اور لیڈر میں فرق ہے،حاجی لشکری

کوئٹہ:بلوچستان پیس فورم کے سربراہ سینئر سیاست دان و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ اداکار اور لیڈر میں فرق ہے، خاص ذہنیت نے حقیقی قیادت کا راستہ روک کر حادثاتی اور جعلی قیادت کو جنم دیا، حقیقی سیاسی کارکن ذاتی و گروہی مفادات کے پیچھے بھاگنے کی بجائے ایک نظریہ کے تحت اپنے سماج کو کتاب کیساتھ منسلک کرکے آگئے بڑھیں، صوبے کے لوگوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ ان کے لیڈر کا معیار کیا ہونا چائیے ۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز ادارہ ثقافت میں شال لیڈر کمیونٹی کے زیر اہتمام مختلف جامعات و تعلیمی اداروں کے طلباءو طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب سے نیشنل پارٹی کے نائب صدر ڈاکٹر اسحٰق بلوچ ، پیپلز پارٹی کی رہنماءسکینہ عبداللہ ، شعیب آغا ، عابد بلوچ ، نعیم بلوچ ، اسد خان ، نرگس بتول ، زکریا اعجاز ، نمرہ بلوچ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی کہا کہ لاعلمی میں بلوچستان کے لوگ کسی کے ذاتی فائدئے کیلئے استعمال نہ ہوں میں نے اور میرے ساتھیوں نے صوبے میں کتاب دوست تحریک کا آغاز کرکے 65 ہزار سے زائد کتابیں مختلف جامعات ، لائبریریوں اور تعلیمی اداروں کو دی ہیں تاکہ ہم ایک تعلیم یافتہ قوم بن کر علم اور حکمت کی بنیاد پر اپنے سماج کو تبدیل کریں اور کوئی ہماری آئندہ نسل کو فروخت نہ کرسکے ، حقیقی سیاسی کارکن ذاتی و گروہی مفادات کے پیچھے بھاگنے کی بجائے ایک نظریہ کے تحت اپنے سماج کو کتاب کیساتھ منسلک کرکے آگئے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاص ذہنیت نے حقیقی قیادت کا راستہ روک کر حادثاتی اور جعلی قیادت کو جنم دیا جن کی بقاءپیسہ ہے ، عوام کے فیصلے پارلیمنٹ میں نہیں کہیں اور ہورہے ہیں، بلوچستان میں لسانیت اور فرقہ واریت کے نام پر ہزاروں لوگوں کا خون بہانے کے بعد اب قبائل کو آپس میں لڑانے کی سازش کی جارہی ہے ، صوبے کے لوگوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ ان کے لیڈر کا معیار کیا ہونا چائیے ، اداکار اور لیڈر میں فرق ہے لیڈر اپنے سماج کو ایک نظریہ دے کر ان کے مستقبل کا تعین کرتا ہے اور اداکار کسی ایک خاص شعبہ میں تو مہارت رکھتا ہے مگر معاشرے کو تبدیل نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ عوام پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ ووٹ کے ذریعے کرکے اس حقیقی سیاسی قیادت کا انتخاب کریں جو قانون سازی کرنا جانتی ہوں اور کسی اور کے ایجنڈے پر کاربند ہونے کی بجائے عوام کو جوبداہ ہوں۔ انہوں نے تجویز دی کہ بلوچستان کو بحرانوں ، پسماندگی سے نکالنے اور مستقبل کی قیادت کے تعین کیلئے طلباءو طالبات اور نوجوان صوبے کے 32 اضلاع کی عوامی پارلیمنٹ تشکیل دیں اور ہر تین ماہ بعد اس کا اجلاس طلب کریں اپنے درمیان سے اس حقیقی قیادت کا انتخاب کریں جو ہمارے وطن اور سرزمین کو لوٹ مار سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین و قانون کے تحت تعلیمی اداروں میں پابندی کا خاتمہ کرکے طلباءیونین کو بحال کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں