عمران خان کو بلوچستان میں مداخلت کا کہنے پر مجھ سے استعفا دلوایا گیا، جام کمال

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر و سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ شاید ہی کوئی پاکستان اور پاکستانیوں کیلئے سوچ رہاہے بدقسمتی سے سب انا کی جنگ میں مبتلا ہیں،عمران خان کو آگاہ کیا تھا کہ بلوچستان کے معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے تو ان کاجواب تھا کہ جام صاحب آپ کے نمبر پورے نہیں ہے، تین سال سے پی ٹی آئی کی حکومت نے کیا فوج سے سیاسی ودیگر کام نہیں لیے، چیئرمین سینیٹ اور وائس چیئرمین کا انتخاب کیسے ہوا جہاں اپوزیشن کی تعداد زیادہ تھی تو وہ کیسے جیتے اگر یہ سچ ہے تو حقائق سب کے سامنے آنے چاہئیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کیا۔ جام کمال نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہاکہ ان دنوں وفاق سے جو وزراء سینیٹ اور نیشنل اسمبلی کے ذمہ داران اور گورنر ہاؤس کہ بعض لوگ جو اُسوقت کے وزیراعظم کے خاص تھے یہ سب اُس گیم کا حصہ تھے اللہ نے جولکھا تھا میرے لئے میں اُس پر شکر گزار ہوں اُنہوں نے اکتوبر کہ ماہ کی ٹیوئیٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جب میں اُسوقت عمران خان سے ملا تھا تو میں نے انہیں بتایا تھا کہ بلوچستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے جس پر عمران خان نے کہا کہ تھا کہ جام صاحب آپ کے نمبرز پورے نہیں اور پرویز خٹک اور صادق سنجرانی کو عمران خان نے بھیجا کہ میں ریزائن دوں۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان کی اپنی رائے ہوتی ہے میری کوشش تھی کہ میں اُصولوں پر زندگی گزاروں اور زندگی گزاری بھی 2018سے 2021 تک کیا اُس وقت کی حکومت نے تین سال تک اُس ادارے سے سیاسی اور باقی کام نہیں لئے اسمبلی اور اعتماد کا ووٹ سینیٹ کے پی ٹی آئی کی بلوچستان والی نشست کس کو دی گئی چیئرمین سینٹ اور وائس چیئرمین کا انتخاب کیسے ہوا جہاں اپوزیشن کی تعداد زیادہ تھی تو وہ کیسے جیتے اگر یہ سچ ہے تو حقائق سب کے سامنے آنے چاہئیے اب صرف پسند اور ناپسند چل رہا ہے ہر کوئی اپنے لئے کام کررہا ہے پاکستان اور پاکستانیوں کیلئے شائد ہی کوئی سوچ رہا ہوں اور اسکا فیصلہ ایک دن وقت سامنے ضرور لائیگا سب اسوقت انا کی جنگ میں مبتلا ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آج بھی اپنے علاقے کے لوگوں کے اندر باتیں ہیں اور سیلاب کے بعد کی تباہ کاریوں سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کررہے ہیں یہی میری ذمہ داری ہے اور اِسی کا مجھ سے پوچھا جائیگا انہوں نے کہا کہ نہ تو بلوچستان خوش قسمت ہے اور نہ ہی میں غیر معمولی خصوصیات کا مالک ہوں لیکن ہم سے جو ہوسکا وہ ہم نے کیا بد قسمتی سے خنجر اپنوں کے ہاتھ میں تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں