بولان سے زیر حراست خواتین اور بچے رہا، اطلاعات: گرفتاری کی خبریں درست نہیں، پولیس حکام کا دعویٰ
بولان (انتخاب نیوز) ایس ایس پی کچھی محمود احمد نوتیزئی نے پی ڈی ایس پی نعمت اللہ اور ڈی ایس پی ڈھاڈر بلک شیر مری کے ہمراہ اپنے آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل سوشل میڈیا پر وائرل خبر جس میں بولان میں گیارہ خواتین و بچوں کو لاپتہ اور پولیس کی حراست میں لئے جانے کے خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے وضاحت میں کہا کہ ضلع کچھی بولان میں گیارہ لاپتہ خواتین کی گمشدگی کے حوالے سے ضلع کے تھانوں میں کسی قسم کی کوئی اطلاع موصول نہیں، ایسی بے بنیاد خبروں کی مکمل تردید کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس قانون نافذ کرنے والے دیگر سیکورٹی اداروں کے ساتھ ملکر عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے۔ بولان میں خواتین کے لاپتہ ہونے کی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں، محض افواہیں پھیلائی گئی ہیں، جس میں کسی قسم کی صداقت نہیں، اس عمل میں ملوث عناصر کو چاہیے کہ وہ علاقے میں انتشار پھیلانے کا سبب نہ بنیں۔ پولیس ایریا کے ریکارڈ کے مطابق علاقے میں اس قسم کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا، جس کی کوئی تصدیق کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے جوان ضلع کچھی میں امن و امان کی بحالی کے لیے سرگرداں ہیں، ہم اپنے فرائض منصبی سے کھبی بھی غافل نہیں ہوسکتے، علاقے میں امن و امان کی بحالی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے محکمہ پولیس کے جوان ہر ممکن اقدامات کویقینی بنارہے ہیں، پولیس فورس میں سزا اور جزا کا قانون سب کیلئے مساوی ہیں۔ علاوہ ازیں آمدہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے بلوچستان کے علاقے بولان میں وسیع پیمانے پر آپریشن کے دوران جبری طور پر لاپتہ کیے گئے، بلوچ خواتین اور بچوں کو رہا کردیا گیا ہے۔


