عمران خان کی طرح اختر مینگل اینڈکمپنی بھی اقتدار کے لالچ میں اندھی ہوگئی ہے، نیشنل پارٹی

کوئٹہ(این این آئی) نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر مخدوم ایوب قریشی نے کہا ہے کہ عمران خان کی طرح اختر مینگل اینڈکمپنی بھی اقتدار کے لالچ میں اندھی ہوگئی ہے پہلے تین سال انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت میں اقتدار کے مزے لوٹے اور 10ارب روپے بلوچستان کی ترقی کے نام پر حاصل کرکے ہڑپ کئے اوراب یہ کمپنی پی ڈی ایم کی حکومت میں شامل ہے اور بلوچستان کے اندررات کے اندھیرے میں بننے والی اسٹیبلشمنٹ کی جماعت باپ پارٹی کے ساتھ بلوچستان میں شریک اقتدار ہوکرتحفے،تحائف وصول کرنے اور مال بنانے میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسن کے حوالے سے ڈاکٹرمالک بلوچ پر الزامات لگانااختراینڈکمپنی کی لاعلمی،جہالت اوراپنے گھناؤنے چہرے کوالزامات کی سیاست میں چھپا نے کی ناکام کوشش ہے حلانکہ اس حقیقت کو تو ملک کابچہ بچہ جانتاہے کہ لاپتہ افراد کوکون لاپتہ کرتا ہے وزیراعظم شہباز شریف کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ مسنگ پرسن کے محاملے پرمیں طاقتور حلقوں سے بات کروں گا لیکن افسوس کامقام ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی جیسے سنجیدہ اور سلگتے ہوئے قومی مسلے کے حل کے لئے بنائے گئے کمیشن کاسربراہ ایسے غیر سنجیدہ شخص کو بنا دیاگیاہے جواس مسلے کوبھی اپنی ذاتی اناء اورتیزی سے بندہوتی سیاسی دوکان کوچلانے کیلیے استعمال کررہاہے۔ایوب قریشی نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے مخلوط حکومت کے مختصردورکوہم بے مثال تو نہیں کہتے کیونکہ یہ مخلوط حکومت تھی جسکی اپنی بیشمار مجبوریاں ہوتی ہیں لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی حکومت کے بعد یہ بلوچستان کی پہلی حکومت تھی جس میں سیاسی کردار نمایاں تھا آج جو لوگ بلوچستان کے مفادات کی بات کرتے ہیں وہ اس وقت کوبھول گئے جب بلوچستان کاسینہ چیرکروہاں ایٹمی دھماکے کئے جارہے تھے اس وقت توموصوف بلوچستان کے وزیر اعلیٰ تھے اور خود وزیراعظم کی گاڑی چلاکراس مقام تک انہیں پہنچایاتھااور جہاں تک بات ڈاکٹر عبد الحئی بلوچ کی ہے تو وہ سب چیزیں تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہیں ڈاکٹر حئی بلوچ اورمیرحاصل بزنجو کے درمیان صدارت کیلئے مقابلہ ہوا تھا اور اس پر باقاعدہ ووٹنگ ہوئی تھی اس لئے کہ نیشنل پارٹی وارڈ کی سطح سے لیکر مرکزی قیادت تک ایک مکمل جمہوری جماعت ہے ہر امیدوار کواپنی کارکردگی کے مطابق پارٹی عہدے کے لئے منتخب ہوناپڑتاہے ڈاکٹر حئی بلوچ یہ الیکشن ہارگئے تھے اس بات کاسرٹیفکیٹ اختراینڈکمپنی سے حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے جہان سردارہی جماعت کاسربراہ ہوتا ہے نیشنل پارٹی میں ایسانہیں ہوتا اس پارٹی کا سربراہ کبھی بھی کوئی سردار،نواب یاجاگیردارنہیں ہوامیرحاصل بزنجو اور ڈاکٹر عبد الحئی بلوچ کیدرمیان جو الیکشن ہواتھاوہ کس قدرصاف،شفاف اورمنصفانہ تھا اسکی تصدیق ڈاکٹر حئی بلوچ کی اس تقریر سے کی جاسکتی ہے جو انہوں نے اپنی شکست کے بعد تقریب حلف برداری میں کی تھی انہوں نے واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کیا تھاکہ میں ہارگیاہوں اورمیرحاصل بزنجو جیت گئے ہیں اور میں حاصل بزنجو کو انکی جیت پر مبارکباد دیتا ہوں اور پھر اس کے بعد بھی ڈاکٹر صاحب کافی عرصے تک نیشنل پارٹی میں مرکزی رکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں ڈاکٹر حئی بلوچ کوئی معمولی آدمی نہ تھے کہ جولوگ انہیں دھوکے،فراڑاوردہاندلی کے ذریعے الیکشن ہرادیں اوروہ پھربھی اپنے ضمیر کے خلاف انہیں لوگوں کے ساتھ کام کریں یہ الزام نیشنل پارٹی پر نہیں یہ تو ڈاکٹر عبد الحئی بلوچ کی شخصیت پرلگایاگیا ہے کہ جس جماعت نے انکے ساتھ دھوکہ کیاوہ پھر انہیں کے ساتھ کام کرتے رہے اور یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اسی الیکشن میں ڈاکٹر صاحب کے صاحبزادے چنگیز بلوچ بھاری اکثریت سے سینٹرل کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے تھے اوروہ ڈاکٹر صاحب کے پارٹی چھوڑنے کے بعد بھی کافی عرصے تک نیشنل پارٹی میں کام کرتے رہے ہیں نیشنل پارٹی کے نائب صدر نے کہا کہ اختراینڈکمپنی کادوغلاکردار عوام کی سمجھ میں آ گیا ہے کہ ان کی بڑک بازیاں عوامی مفادات کے لئے نہیں بلکہ زاتی فوائد سمیٹنے کے لئے ہیں اسی لئے یہ اب الزامات کی سیاست کے ذریعے عوام کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ 2018کے جھرلوانتخابات میں جس طرح باپ پارٹی کوجتوایاگیاتھااس طرح اختر اینڈکمپنی کی جیت کابھی بندوبست کیاگیا تھالیکن اب ایسا ممکن ہوتا ہوادیکھائی نہیں دیرہاہے اس لئے بھوکھلاہٹ میں مذکور بالا کمپنی نے نیشنل پارٹی کونشانے پررکھ لیاہے کیونکہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ بلوچستان میں اگر کوئی حقیقی سیاسی جماعت ہے تووہ نیشنل پارٹی ہے جس کیساتھ مقابلے سے پہلے ہی مخالفین پر شکست کاخوف طاری ہوچکاہے ایوب قریشی نے کہا کہ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ کیدورحکومت میں بدامنی کا شکار بلوچستان میں امن قائم ہواتھااسی امن کی بدولت بلوچستان میں تمام سیاسی جماعتیں سیاسی سرگرمیاں کرنے کے قابل ہوئی تھیں ناگفتہ بہ حالات میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تھے آغازحقوق بلوچستان پیکج ہوا تھا تعلیم کے فنڈمیں ریکارڈ اضافہ ہواصحت کے میدان میں بہتری کیساتھ چھ ہزارلیڈیز ہیلتھ ورکرز کو مستقبل بنیادوں پر ملازمتیں دی گئیں بلوچستان کے مسلیکوحل کرنے کیلئے سیاسی مکالمے کا احتمام کیاگیا انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مالک بلوچ کادورحکومت پچھلی حکومتوں اورموجودہ حکومت کے دورسے کئی گناں بہترتھا۔ڈاکٹر مالک بلوچ شخصی،سیاسی اور حکومتی کارکردگی کے حوالے سے حقیقی معنوں میں صاف اور شفاف انسان ہیں جو لوگ ڈاکٹر مالک بلوچ اور نیشنل پارٹی کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں وہ آنے والے دنوں میں اپنی یقینی شکست کے خوف سے اس طرح کاواویلاکررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں