ملکی میڈیا کا بلوچستان پر بلاک آوٹ!

تحریر:نصیر بلوچ

لسبیلہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبا کے خلاف من گھڑت ایف آئی آر کرکے اپنی آمرانہ رویوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طلبا گزشتہ تین روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں تاحال یونیورسٹی سمیت لسبیلہ انتظامیہ کی طرف سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ خبر نہ تو کسی میڈیا پر چل چکا ہے اور نہ ہی کسی معروف صحافی نے اسے قلم بند کرنے کی زحمت کی ہے۔ اگر یوں مسائل کو دباتے رہیں تو انکے نتائج بھیانک شکل میں نکل سکتے ہیں۔ لسبیلہ انتظامیہ اس مسلے پر بات کرنے کو تک تیار نہیں جیسے ان کے نظر میں یہ ایک معمولی مسلہ ہے۔ طلبا کی زندگیاں داو پر لگا کر یونیورسٹی انتظامیہ جس بے حسی کا مظاہرہ کر رہا ہے اس پر حکومت وقت کو نوٹس لینا چاہئے تھا لیکن ابھی تک حکومت کو شاہد ہی اس کا علم بھی ہو۔ آخر کب تک بلوچ طلبا کے ساتھ ایسا ہوتا رہے گا۔ طلبا کی زندگیاں اجیرن ہوگئی ہیں احتجاج پر بیٹھے کہی طالب علم بے ہوش ہوکر ان کی حالت زار سیریس ہوگئی ہے لیکن مجال ہے کہ کوئی ان کے مطالبات سنے کوئی ان سے پوچھے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ اپنے جھوٹی ایف آئی آر کرکے خود پھنس گئی ہے چونکہ معاملہ عدلیہ کا ہے انتظامیہ نے طلبا پر جو الزام لگائے ہیں انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا وگرنہ یونیورسٹی انتظامیہ جھوٹی ایف آئی آر کرنے پر خود موردِسزا ٹہر سکتی ہے۔ یونیورسٹی کے انتظامیہ سے بات کرنے سے محسوس ہوا وہ اس مسلے سے نکلنے کے لئے ایک درمیانی حل سوج رہی ہے اس کا ایک واحد یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ بلوچستان حکومت کی تعاون سے جوڈیشری سے ایف آئی آر خارج کروادیں اس سے نا صرف طلبا کی مسقبل محفوض رہے گا کسی حد تک یونیورسٹی کی ساکھ بھی برقرار رہے گی۔
مجھے ایک صحافی دوست کی کال آئی کہنے لگے عمران خان کی ٹانگوں پر گولی چلانے کا ایک مقصد اسے معزور کرکے نااہل کروانا بھی تو ہوسکتا ہے! اس تپاک سوال کا میں نے ہنس کر جواب دیا کہ بھئی معزوروں کا بھی الگ سے کوٹہ مختص ہے۔ عمران خان پر حملے کے بعد سے انہوں نے اپنی شخصیت کو مزاق بنا کر رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی ہے۔ بے لگام سوشل میڈیا میں اسکی شخصیت کو مختلف طنز و طریقے سے پیش کیا جاتا ہے۔ وہ لوگوں کے لئے باقاعدہ ہنسنے ہسانے کا زریعہ بن گیا ہے۔ عمران خان کے حامی صحافی ارشاد بھٹی آج کل ان کے خلاف ہوگئے ہیں بلکہ یوں کہیں کہ وہ سچ کے بول بول رہا ہے جس سے عمران خان کا پلڑا مزید بھاری ہورہا ہے۔
عمرانی کلٹ میں شامل صحافی ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں۔ ان میں سے ایک ارشاد بھٹی تھے جنہوں نے اپنا صحافتی ساکھ کو برقرار رکھنے کی خاطر واپس اپنا فیصلہ بدل کر دوبارہ ملک میں تشریف لائیں ہیں اور باہر جانے کو ایک ٹرپ کا نام دیکر بری الزام ہوگئے ہیں۔ اب جناب باقاعدہ رپورٹ کارڈ کا حصہ ہے اور انہوں نے اپنا لب و لہجہ بدل دیا ہے۔ عمران خان کے حامی صحافیوں کے پاس دو راستے بچ گئے ہیں یا فیملی سمیت باہر شفٹ ہواجائے یا اسی ملک میں رہ کر اپنا طرزِ بیانیہ بدلا جائے۔ بڑی گہری سوچ، بچار و مبحاحثے کے بعد ارشاد بھٹی نے ملک میں رہ کر اپنا طرزِ بیانیہ بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اس کے نئے انداز گفتگو سے مسرت و مستفید ہونے کے لئے رپورٹ کارڈ پروگرام دیکھئے وہ باقادہ اور بلاتعصیل پینل کا حصہ رہتے ہیں۔
وفاق کی سیاست پر تبصروں کی بوچھاڑ ہوتی رہتی ہے۔ اس کے برعکس بلوچستان کے حالات و سیاست پر اِکا دوکا تبصرہ بھی زیر نظر نہیں گزرتا۔ کیا بلوچستان میں ظلم و جارحیت اتنے تکونی ہوگئے ہیں کہ وہ مین اسٹریم میڈیا کی سرخیاں نہ بن سکیں؟ بلوچستان کے تمام سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف عمل ہیں۔ تمام پارٹی حکومت کا حصہ ہیں اگر نیشنل پارٹی کا صوبائی سطح پر الائنس نہیں لیکن وفاق میں وہ بھی حکومت کے الائنس میں شامل ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جہاں بلوچستان کے تمام سیاسی پارٹیز بشمول بلوچ قوم پرست جماعتوں کا سب حکومت کا حصہ ہیں لیکن مجال ہے کہ کوئی حکومت سے بلوچستان کے جینوئن مسائل کا تذکر تک کرے۔ اگر اب بھی بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہوپاتے تو یہ تمام سیاسی جماعتوں کی نااہلی سمجھی جائے گی۔
حق دو تحریک نے دو کام اچھے کئے ہیں اول وہ جو الزام و حقائق بلوچستان کی سیاسی پارٹیوں کے سربراہ پر لگا رہے ہیں وہ حقائق پر مبنی ہیں۔ دوسری سمجھداری کا کام انہوں نے یہ کردیا کہ حق دو تحریک کا سربراہ حسین واڈیلہ کو مقرر کردیاہے۔ لوگوں کا مولانا ہدایت الرحمن کی شخصیت سے ہزار اختلاف ہوگا لیکن سب حسین واڈیلہ کو ایک اچھا لیڈر مانتے ہیں اور کیوں نہ مانے ان میں وہ سب صلاحیت موجود ہیں اور وہ اپنی قوم کے لئے مسلسل جدوجہد کررہا ہے۔ مولانا ہدایت الرحمن اصل مسائل پر بات کررہے ہیں اس لئے اتنے کم وقت میں وہ لوگوں میں اتنے مقبول ہوئے ہیں۔ اگرچہ بعض لوگ اسے اسٹبلشمنٹ کا لانچ کردہ ایک لیڈر تصور کرتے ہیں لیکن گوادر کے عوام اسے اپنی مقدر کا سکندر سمجھتے ہیں اس لئے تو انکے دھرنے میں لاتعداد لوگ شامل ہوتے ہیں۔
اسٹبلشمنٹ نے جب عمران خان کو لانچ کرنا تھا تو پہلے انہوں نے یہ کام کردیا کہ سارے ٹی وی چینلز کو پابند کردیا کہ وہ عمران خان کی ہر بات کو مین اسٹریم میڈیا پر بڑی کوریج کے ساتھ نشر کریں حتیٰ کہ مولانا ہدایت الرحمن کے کیس میں بلکل الٹ ہے ان پر تاحال میڈیا بلاک آوٹ نافذ ہے۔ اس سے قطع نظر کہ مولانا ہدایت الرحمن کے پہلی ریلی بڑی کوریج ملی تھی لیکن وہ بھی پہلے بین الاقومی میڈیا کے کوریج دینے کے بعد ملکی میڈیا کو ہوش آیا۔ بہرحال لاکھ اختلاف صحیح لیکن جو کام اور تحریک عوامی مفادات کے حق میں ہو اسے میڈیا کو کوریج دینا چاہئے۔ ملکی میڈیا کا بلوچستان پر بلاک آوٹ نافذ ہے اور بلوچستان کے حالات جنتے گھمبیر تر ہوتے جارہے ان میں مین اسٹریم میڈیا برابر کے قصور وار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں